قیامِ پاکستان کے وقت میلسی میں ڈاک اور ٹیلی گرام کا نظام موجود تھا۔ تاہم رسل ورسائل کے ذرائع بہت محدود تھے۔ 1908 میں ریلوے لائن انگریزوں کے زمانے میں بچائی گئی۔ جب پاکستان نبا اس وقت پوری تحصیل میں ایک ہندو ڈاکٹر ودھا رام کے پاس ایک کار تھی مسلمانوں میں پہلی کار غلام قادر سنڈھل نے خریدی بعد میں غلام محمد بھابھہ مے بھی ایک کار لاہور سے خریدی۔ الاّ ماساء اللہ کوئی پختہ سڑک نہ تھی۔ پاکستان بننے کے بعد بھی کئی سال تک بس سروس بہت پسماندہ تھی۔ 1970 میں میلسی میں ٹیلی فون ایکسچینچ قائم ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں مختلف دیہات میں رابطہ سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ سعید احمد منیس کے اوّلین زمانہء اقتدار میں میلسی سے ٹبہ سلطان پور تک میلسی ملتان سڑک کو کشادہ کیا گیا۔ 1990 ء میں میاںمحمد ممتاز خان کے حسنِ سعی سے ٹیلی فون ایکسچینچ کو ڈائریکٹ ڈائیلنگ نظام سے منسلک کیا گیا۔ 1995 ء میں میاں نور محمد بھابھہ کے دورِاقتدار میں ڈیجیٹل ٹیلی فون نظام متعارف کرایا گیا۔ 2000 ء کے اختتام پر انڑ نیٹ کی آمد آمد ہے۔ میلسی میں ایک درجن کے لگ بھگ نواحی قصبات اور دیہات میں ڈائریکٹ ٹیلی فون کی سہولت موجود ہے۔
نوٹ: ایم این اے ارشاد احمد خان نے مرزا امیر بیگ چغتائی کی درخواست پر ممتاز علی بھٹو سے میلسی میں نائٹ پوسٹ آفس کی سروس شروع کرائی۔