صحت

تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی 1975ء میں بنایا گیا تو اس وقت ہسپتال 60 بیڈز پر مشتمل تھا۔ 2002ء میں مزید 90 بیڈز کا اضافہ کر کے بیڈز کی تعداد 150 کر دی گئی۔ہسپتال میں روزانہ ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کی تعداد پانچ سو سے زائد ہے۔ہسپتال میں صرف ایک اسپشلیسٹ اور تین ڈاکٹرز ڈیوٹی دے رہے ہیں جبکہ سات اسپشلیسٹ دس میڈیکل آفیسرز، چھ نرسنگ سٹاف اور درجہ چہارم کی بشتر سیٹیں تاحال خالی پڑی ہیں۔ایم ایس ڈاکٹر جہانگیر شہزاد کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں مریضوں کی سہولت کے لیے ہر قسم کی میڈیسن موجود ہے جسمیں سانپ کاٹنے اور کتے کے کاٹنے کی ادویات بھی شامل ہیں۔ہسپتال میں عملہ کی کمی ہونے کی وجہ سے مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں ہارٹ اسپشلیسٹ، میڈیکل فزیشن، اور ای این ٹی اسپشلیسٹ کی آسامیاں منظور ہی نہیں ہیں۔’سال 2015ء کے شروع میں ایم این اے سعید احمد خان کی گرانٹ سے ہسپتال میں دل کے امراض کیلئے عمارت تعمیر کی گئی ہے تاہم دل کے مریضوں کے لیے تاحال ڈاکٹر سمیت متعلقہ عملہ و مشینری کی تعیناتی نہیں ہو سکی ہے۔’ڈاکٹر جہانگیر شہزاد نے مزید بتایا کہ اسامیاں خالی ہونے کی وجہ سے ہسپتال کی کارکردگی بہتر نہیں ہو رہی۔ہسپتال میں ہارٹ سپشلیسٹ، میڈیکل فزیشن، اور ای این ٹی سپشلیسٹ کی آسامیاں منظور ہی نہیں۔” ایم ایس ڈاکٹر جہانگیر شہزاد”مریضوں کی تعداد زیادہ اور عملہ کی کمی ہے۔ جس وجہ سے مریضوں کے ساتھ ساتھ عملہ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی ڈاکٹر میلسی ہسپتال میں آنا نہیں چاہتا۔ سابقہ دور حکومت میں ایم پی اے میاں ماجد نواز آرائیں کی گرانٹ سے آئی سی یو وار ڈ تعمیر کی گئی تاہم وہاں بھی عملہ تعینات نہ ہو سکا اور وارڈ میں ایمرجنسی یونٹ کا عملہ بھیج دیا گیا۔ 150 بیڈز کے ہسپتال کیلئے 25 میڈیکل آفیسرز اور 70 نرسنگ سٹاف کا تعینات ہونا ضروری ہے

Share