
"صبح سات بجے میں ہسپتال پہنچا تو وہاں ڈاکڑ صاحب اور دیگر عملہ سو رہا تھا۔ ان کو جگانے کی کوشش کی تو عملے نے ان کے آرام میں خلل ڈالنے سے منع کر دیا جس پر میں نے ایم ایس صاحب کو ٹیلی فون پر شکایت کی۔”
ایسا کہنا ہے محلہ افغان میلسی کے رہائشی محمد نوید کا جو گزشتہ دنوں گُھٹنے میں شدید درد کے باعث تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میلسی آئے تھے۔
وہ بتاتے ہیں کہ شکایت سننے کے بعد ایم ایس نے ان سے کہا کہ وہ تحمل سے کام لیں کیونکہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں پہلے ہی ڈاکٹرز کی کمی ہے اور جیسے تیسے کام چل رہا ہے اگر سب کے خلاف کارروائی شروع کر دی تو یہ ڈاکٹرز چھوڑ کر چلتے بنیں گے۔
"ایم ایس کا جواب سنتے ہی میں خاموش ہو گیا اور پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس چلا گیا۔”
محمد افضل میلسی سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود فتح پور میں رہتے ہیں اور پیشہ سے ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔
سجاگ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ قبل لکڑیوں سے گرنے کے باعث ان کے بیٹے کو گردن میں تکلیف ہوگئی تھی اور جب وہ بیٹے کو لے کر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال آئے تو یہاں مریضوں کا جم غفیر تھا۔
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میلسی میں 44 ڈاکٹرز کی منظور شدہ آسامیوں پر صرف 20 ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ زیادہ رش ہونے کے باعث ان کی باری نہیں آئی کیونکہ ڈاکٹر کی ڈیوٹی کا وقت ختم ہو گیا تھا۔
"میرے ساتھ اور بھی کئی مریض بناء چیک اپ کے ہی اپنے گھروں کو مایوس لوٹ گئے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ اگلے روز ہسپتال آنے پر پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب آج وہاڑی ہسپتال میں ڈیوٹی دیں گے جس کے بعد انہیں اپنے بیٹے کو میلسی سے 50 کلو میٹر دور وہاڑی ہسپتال لے جانا پڑا۔
ایم ایس ڈاکٹر محمد فاضل نے سجاگ کو بتایا کہ میلسی ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی ایک بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میلسی میں 44 ڈاکٹرز کی منظور شدہ آسامیوں پر صرف 20 ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں۔
"فزیشن ڈاکٹر حافظ سلمان رانا جعمے اور ہفتے کے دن ٹی ایچ کیو میلسی میں موجود ہوتے ہیں جبکہ باقی چار دن وہ وہاڑی ڈی ایچ کیو اپنی ڈیوٹی ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ مسئلہ بار ہا محکمانہ میٹنگز اور ڈاک کے ذریعے اعلیٰ اتھارٹیز کے گوش گزار کیا گیا ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

ای ڈی او ہیلتھ وہاڑی محمد افضل بشیر سے جب ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی بارے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ میلسی میں ڈاکٹرز جانا ہی نہیں چاہتے۔
اس کی وجہ وہ میلسی کے لوگوں کے ناروا سلوک کو گردانتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے نئے ڈاکٹرز کے انٹرویوز ہوچکے ہیں اور منتخب ڈاکڑتز کو جلد ہی میلسی کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں تعینات کر دیا جائے گا۔
10 لاکھ کی آبادی والے شہر میلسی میں ڈاکٹرز کا نا ہونا ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے۔ ارباب اختیار کو اس حوالے سے سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں کو بنیادی حقوق کی فراہمی ممکن ہوسکے۔