معیشت ،تجارت اور صنعت

معیشت ،تجارت اور صنعت
قیام پاکستان سے پہلے تجارت پر ہندو تاجروں کا قبضہ تھا۔ مسلمانوں کا اہم اور معزز پیشہ زراعت تھا۔ زراعت پر ایک تفصیلی مضمون اس کتاب میں علیحدہ صفحے پر درج ہے ۔ زمینداروں کے علاوہ اکثر مسلم آبادی مزارعین اور محنت کشوں (کمیوں) پر مشتمل تھی۔ سرکاری اور نجی ملازمت کے ذرائع بہت کم تھے ۔ میلسی شہر کے قریب بی ۔ سی جی اور رام زائن کے نام سے دو کاٹن جنگ فیکٹریاں غیر مسلم کی ملکیت تھیں ۔ تقسیم ہند کے وقت جب ہندو چلے گئے تو مسلمان تجارت میں وارد ہوئے ۔1970 کی دہائی تک الحاج نذیر حسین ڈاہر ، الحاج ملک غلام قادر ،ڈاکٹر محمد گلزار چغتائی، میاں محفوظ احمد نواز ، الحاج غلام حسن رشید ، مہر احمد نواز میلسی شہر کے بڑے تاجر تھے۔
اسی زمانے میں چوہدری عبدالمجید نے ترقی کی اور کاروبار میں بہت آگے نکل گیا۔1970 کی دہائی میں کاٹن جنگ فیکٹریوں ، آئس فیکٹریوں اور آئل ملوں کی صورت میں صنعتکاری کا عمل شروع ہوا۔ اور 1980کی دہائی میںگلشن سپنگ ملز اور چوک میتلا میں کوہ نور آئل ملز قائم ہوئے ۔ پاکستان کی آزادی نے لوگوں کے لیے سرکاری اور نجی شعبے میں بے شمار مواقع پیدا کئے ۔ آج محکمہ تعلیم ، صحت ، فوج ، بنک ، انشورنس، مواصلات ، سول سروس ، زراعت ، انتظامیہ ، تجارت ، پولیس اور دوسرے سرکاری اور نجی شعبوں میں میلسی کے عوام خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔

spinco   betebet   betebet   betebet   onwin   betebet   betebet   betgaranti   betganrati   betgaranti   spinco   betgaranti   betgaranti   betgaranti   betgaranti   betgaranti   betebet   betebet   onwin   betebet   betebet   betebet   casibom   onwin   betpipo   marsbahis   grandpashabet   casibom