سعید انجم کا تعلق میلسی سے 18 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبہ فتح پور کے محنت کش گھرانے سے ہے۔
انسٹھ سالہ سعید احمد انجم عالمی سطح پر مصوری کے میدان میں نام کما چکے ہیں۔
سعید احمد انجم نے سجاگ کو بتایا کہ مڈل پاس کرنے کے بعد وہ شہر کے ایک خوش نویس حاجی غلام مصطفیٰ عجمی کی شاگردی میں چلے گئے تھے جہاں انہوں نے خوش خطی اور آرٹ کا فن سیکھا۔
اسی دوران میں انہوں نے استاد زیدی سے شیشے میں آرٹ کا کام بھی سیکھا اور پبلسٹی بورڈ لکھے۔
"شروع شروع میں فلموں کی تشیہر کے بورڈز بناتا تھا۔ میرے ہاتھ سے بنے اس وقت کے معروف فنکاروں سدھیر، ساون، صبیحہ خانم، ندیم، وحید مراد، نیر سلطانہ، حبیب، سلطان راہی، ساون اور الیاس کشمیری کے پورٹریٹ لوگوں کو بہت پسند آتے۔” سعید احمد انجم
میلسی کے اس مشہور مصور نے اپنے کام کا آغاز ماہانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے سے کیا تھا اور دس سال تک ایک ہی استاد کے پاس کام کرتے رہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ 1977 میں اس کام کے سلسلے میں ملتان چلے گئے جہاں مشہور پینٹر ایس اے جہانگیر سے آئل پینٹ اور واٹر کلر سے پینٹنگز کا کام سیکھا۔
’ایک سال بعد میلسی واپس آ کر واٹر اور آئل پینٹ کا کام شروع کر دیا اور 90 کی دہائی میں بین الاقوامی آرٹ میگزینوں کے ذریعے پنسل ورک کا کام سیکھنے لگا۔‘
ان کے فن سے متاثر ہو کر امریکن بائیوگرافیکل انسٹیٹیوٹ نے سال 2000ء میں انہیں میڈل آف آنر سے نوازا، جو دنیا میں چند ممتاز مصوروں کو ہی دیا گیا ہے۔
2003ء کے دوران ہونیوالے مصوری کے ایک مقابلے میں انکی پنسل ورک کے ذریعے بنائی گئی تصاویروں کو سب سے زیادہ سراہا گیا۔
انہی سالوں میں آپ نے میلسی قائداعظم روڈ پر انجم پکچرز کے نام سے ایک سٹوڈیو بنایا جہاں پینٹنگ کے علاوہ فوٹو گرافی بھی کرتے رہے۔
انکی مصوری کی دھوم بھارت تک پہنچی تو 2008ء میں پنجاب کے شہر چندی گڑھ پریس کلب میں ہونے والی نمائش میں بھی انہیں بُلایا گیا جہاں انکی بنائی تصاویر نے خوب داد سمیٹی۔
سعید احمد انجم نے لینڈ سکیپ تصاویر میں پنسل ورک کے ذریعے معاشرے میں پھیلی ہوئی غربت، مظلومیت اور ناانصافی کی عکاسی کی۔
کبھی کراچی کے سمندر میں ڈوبتے ہوئے سورج کو دکھایا تو کبھی چولستان میں رقص کرتے اونٹ کو، کبھی گھگروں میں دودھ فروخت کرنے والی خواتین کا پورٹریٹ بنایا تو کبھی رہٹ پر باری کے انتظار میں کھڑی خواتین بھی ان کی مصوری کا عنوان بنی۔
انہیں اپنی پینٹنگز میں سے اس بزرگ بنجارے کی پیٹنگ بہت پسند ہے جو کمر پر بوری لادے اور ہاتھ میں تکڑی سنبھالے اشیاء فروخت کر رہا ہے۔
سعید احمد انجم کہتے ہیں کہ فنکار ایک طرح سے غیر سرکاری سفیر ہوتا ہے جس کے فن پارے دوسرے ملک میں اپنی سر زمین کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ان کی خواہش ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کے ٹیلنٹ کو مصوری کی طرف لانے کے لیے ایک اکیڈمی بنائیں۔ اس کے لیے وہ اپنی مدد آپ کے تحت کوشش کر رہے ہیں۔
میلسی کے اس نامور مصور کا ماننا ہے کہ جنوبی پنجاب میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ اگر حکومت جوانوں کی سکھلائی کی جانب توجہ دے تو پاکستان عالمی سطح کے مصور پیدا کر سکتا ہے۔
معروف شاعر مرزا خورشید بیگ میلسوی کہتے ہیں کہ سعید احمد کی تصاویر مقامی تہذیب اور ثقافت کا احاطہ کرتی ہیں اور ان میں چاروں صوبوں کے رنگ نظر آتے ہیں۔
حکومتِ پنجاب فنونِ لطیفہ کے اہم جزو مصوری کی سرپرستی کرے تو آرٹ، کلچر کی ترقی شعوری بیداری کا سبب بن سکتی ہے۔





