خورشید بیگ میلسوی

قومی سیرت ایوارڈ یافتہ بزرگ شاعر خورشید بیگ میلسوی

عبدالصمد چوہدری

خورشید بیگ کہتے ہیں کہ ادیب ہونے  کا مقصد یہ نہیں کہ بندہ دوسرے کاموں سے کنارہ کشی کر لے

خورشید بیگ کہتے ہیں کہ ادیب ہونے کا مقصد یہ نہیں کہ بندہ دوسرے کاموں سے کنارہ کشی کر لے

خورشید بیگ میلسوی 1947ء میں میلسی میں پیدا ہوئے۔ 1964ء میں ہائی سکول میلسی  سے میٹرک اور 1967ء میں گورنمنٹ ڈگری کالج میلسی انٹر کرنے کے بعد ڈی ایچ ایم ایس ہومیو پیتھک اور فاضل طب و جراحت کا کورس کیا۔

خورشید بیگ چار بہنوں اور تین بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔

آپ کے والد مرزا عبدالغفار بیگ بلدیہ کمیٹی میں انسپکٹر چونگیات تھے۔ ان کے والد ہندستان سے پاکستان ہجرت کر کے آئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کا خاندان انتہائی غریب تھا اور ہجرت کے بعد انہیں یہاں پر کافی مشکلات بھی پیش آئیں۔

’ادب میرے لیے ہمیشہ ثانوی حیثیت کا حامل اس لیے رہا ہے کہ ادب کی ترویج سے آپ معاشرے میں صالح اقدار کو تو پروان چڑھا سکتے ہیں مگر اس سے  بچوں کی کفالت ممکن نہیں ہے۔

اسی لیے میں نے ایف اے اردو فاضل کرنے کے بعد ہومیو پیتھک اور فاضلِ طب و جراحت کی ڈگری لی اور بطور میڈیکل پریکٹیشنر تلاشِ معاش میں مگن ہو گیا۔ جس کی بدولت روزگار حاصل ہوگیا اور خاندان کی کفالت اچھے طریقے سے ممکن ہو سکی۔‘

انہوں نے بتایا کہ 1960ء میں سکول میں بزمِ ادب بنائی گئی تھی جس میں پہلی نظم پڑھی تھی جس کے بعد تمام اساتذہ بالخصوص فارسی کے استاد  اور شاعر فتح محمد خاور صاحب نے حوصلہ افزائی کی تھی جو ادب سے مزید دلچسپی کا باعث بنا۔

آل پاکستان مشاعرہ لاہور میں اپنا کلام پیش کرتے ہوئے

آل پاکستان مشاعرہ لاہور میں اپنا کلام پیش کرتے ہوئے

وہ بتاتے ہیں کہ شاعرانہ بصیرت سے آشنائی کا اولین کریڈٹ ان کے استادِ مرحوم شریف حزیں چکوالی کو جاتا ہے جنہوں نے ان کے اندر کے انسان کو شاعر کے طور پر ابھرنے کی راہ دکھائی۔

1968ء میں میانوالی شفٹ ہو گئے اور وہاں گھڑی سازی کا کام شروع کردیا اور وہیں پر شاعری کا سفر بھی جاری رکھا اور ادبی تنظیم ’بزمِ فکر‘ بنائی جس میں 25 سے30 ممبران حصہ  تھے۔

1986ء میں دوبارہ میلسی آگئے اور 1992ء میں اپنا ہومیو کلینک بنایا۔

خورشید میلسوی کہتے ہیں کہ شاعری انسان کے اندر کی تنہائی اور غم و ہجر کو ختم کرتی ہے اور شاعر کا کلام ایک دردِ دل بیاں کرنے کا ذریعہ ہے۔

’میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے اپنے شہروں کو جنگل بنا دیا ہے اور معاشرے میں محبت کے پھولوں کو مسل کر نفرت کے کانٹے بونے کی روش پیدا کر دی ہے۔

میری دولت میرے حرف سارے

میرے اشعار ہیں املاک میری

خورشید میلسوی نے قومی سیرت ایوارڈ کے علاوہ بھی ،تعدد ایوارڈز حاصل کیے

خورشید میلسوی نے قومی سیرت ایوارڈ کے علاوہ بھی ،تعدد ایوارڈز حاصل کیے

ایسے میں اشعار کے ذریعے اندر کے آدمی کی دریافت ادب برائے زندگی کی اثر آفرینی قریہ قریہ گلاب کھلائے گی جن کی خوشبو اور لطافت معاشرے میں امن، محبت اور اخوت کے جذبات کو فروغ دے گی‘۔

وہ معاشرے میں عدم برداشت رویوں سے کافی نالاں دکھائی دیے جس کا اس شعر میں اظہار کرتے ہیں

زباں سے حرف حقارت نکالتے نہیں ہم

کسی پہ سنگِ ملامت اُچھالتے نہیں ہم

خورشید میلسوی کی پہلی کتاب ’ہجرتوں کے سلسلے‘ تھی۔

اب تک ان کی سات کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ہجرتوں کے سلسلے، سخن سرائے، فراتِ وقت، تُو خالق ہے تو مالک ہے، بارش کے بعد، بشارتوں کے امین موسم، ’حرف گہر بار، اور جمال نظر شامل ہیں۔

ان کے علاوہ بہت سے ہفت روزہ اور ماہنامہ میگزین میں بھی لکھتے رہتے ہیں۔

سابق ڈی سی او وہاڑی جواد اکرم ایوارڈ دے رہے ہیں

سابق ڈی سی او وہاڑی جواد اکرم ایوارڈ دے رہے ہیں

ان کی نعتیہ مجموعہ کتاب ’جمالِ نظر‘ پر2007ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے وزیراعظم پاکستان شوکت عزیز نے قومی سیرت ایوارڈ اور 30 ہزار روپے انعام سے بھی نوازا۔

اس کے علاوہ ان کو متعدد ایوارڈ بھی ملے ہیں جن میں 2007ء ادارہ حُسنِ قلم لاہور سے حُسنِ قلم ادبی ایوارڈ،
2008ء ینگ مین سوسائٹی میلسی سے ادبی ایوارڈ، 20111ء میں سفارت خانہ ایران کی طرف سے بہترین شاعر کا ایوارڈ  اور
20111ء یونائیٹڈ موٹرز کراچی سے پاکستان ادبی ایوارڈ کے علاوہ اور بھی بہت سے ایوارڈ دیے گئے ہیں۔

آپ کی نگرانی میں ادبی مجلہ زرناب، ماہنامہ ہاکس اور ماہنامہ صدائے میلسی شائع ہوتے ہیں۔

خورشید میلسوی پاکستان کی متعدد ادبی تنظیموں کے اہم رکن ہیں جن میں رکن قومی مجلسِ دفتری زبان اردو ضلع وہاڑی پاکستان، چیئرمین بزمِ سخن پاکستان، سرپرست حلقہء اہلِ قلم پاکستان، سرپرست ہاکس سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان، رکن پاکستان رائٹرز گلڈ پاکستان، رکن حلقہء اربابِ ذوق لاہورپاکستان، رکن آواز تحصیل فورم میلسی پاکستان شامل ہیں۔