تعلیم
قیام پاکستان سے پہلے تحصیل علم کے بہت کم مواقع میسر تھے پوری تحصیل میں ایک بھی ہائی سکول نہ تھا متمول گھرانوں کے بچے میٹرک کیلئے کہروڑ پکا ہائی سکول میں داخل کئے جاتے ۔ میلسی شہر میں پہلا سرکاری پرائمری سکول 1864ء میں قائم کیاگیا جسے 1920ء میں مڈل اور 1942ء میں ہائی سکول کا درجہ دیا گیا ۔ میلسی شہر میں پہلا گرلز پرائمری سکول 1890ء میں قائم کیا گیا جسے 1962ء میں مڈل اور 1972ء میں ہائی سکول کا درجہ دیا گیا۔
1976 ء میں پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں میلسی شہر میں انٹر کالج قائم کیا گیا۔ 1980ء میں گرلز کالج بنایا گیا۔ 1986ء میں میلسی میں گورنمنٹ کمرشل ٹریننگ انسٹیٹوٹ بنایا گیا۔ 1995ء میں محمود حیات خان عر ف ٹوچی خان کے دور اقتدار میں میلسی شہر کے دونوں انٹر کالجوں کو ڈگری کا درجہ دیا گیا۔ عصر موجود میں 2ڈگری کالج 5ہائر سیکنڈری سکول اور 32ہائی سکولوں سمیت تحصیل میلسی میں 596سرکاری تعلیمی ادارے باقاعدگی سے طلباء و طالبات کو زیور علم سے آراستہ کر رہے ہیں ۔ زمانے کی ترقی اور وقت کی ضرورت کے پیش نظر تحصیل میلسی میں پرائیویٹ سیکٹر میں سکولوں کا اجراء ہوا۔ تحصیل میلسی کی مسز شمیم باقر وہ خاتون ہے جس نے یکم دسمبر 1976ء کو میلسی ماڈل سکول جاری کر کے پرائیویٹ سکولوں کی تاریخ کی بنیاد ڈالی میلسی ماڈل سکول گزشتہ پچیس سال سے مسلسل فروغ علم میں گامز ن ہے۔
بعد ازاں میلسی شہر اور تحصیل کے مختلف قصبات مین درجنوں پرائیویٹ سکول قائم ہوئے ۔ جن میں زہرا پبلک مڈل سکول میلسی (بانی زبیدہ مختار) انشراح پری سکینڈری کیڈٹ سکول(I.P.S) ( بانی و پرنسپل سمیعہ رضوانہ واحد ) سٹی پبلک سکول میلسی ( بانی حامد محمود ) انگلش پائیلٹ سکینڈری سکول میلسی ( بانی پرنسپل سید مظہر اے شاہ ) فاطمہ گرلز ہائی سکول میلسی (بانی پرنسپل مظہر اے شاہ ) رازی ماڈل مڈل سکول جلہ جیم ( بانی ممتاز علی قاسم ) ڈے لائٹ مڈل سکول ٹبہ سلطان پور ( بانی پرنسپل محمد اقبال گلشن) سرسید انگلش پبلک مڈل سکول خان پور ( بانی پرنسپل مختار حسین عابد) اور ہاکس پری کیڈٹ سکولز اینڈ کالجز سسٹم میلسی ( بانی سید اظہر عباس بخاری ) قابل ذکر ہیں ۔ پرائیویٹ سکولوں میں ہاکس پری کیڈٹ سکول نے تاریخی کار کردگی ثابت کی ہے جس کا ذکر اس کتاب کے ایک دوسرے صفحے پر موجود ہے مصنف کی تحقیق کے مطابق ہاکس پری کیڈٹ سکولز اینڈ کالجز سسٹم تحصیل میلسی میں پرائیویٹ سیکٹر میں سب سے بڑا تعلیمی ادارہ ہے۔
1992ء میں میلسی شہر میں کمپیوٹر کی تعلیم کا آغاز ہوا۔ ڈاکٹر عبدالرشید نے پہلا کمپیوٹر ٹریننگ سنٹر قائم کر کے کمپیوٹر کی تعلیم کی تاریخ میں نام پایا۔ آج کل چار پانچ ادارے طالب علموں کو میلسی شہرمیں کمپیوٹر کی تعلیم دے رہے ہیں ان اداروں میںنوجوان ماہر تعلیم مہر محمد عمران واحد کے زیر اہتمام چلنے والا ادارہ آئی پی ایس کمپیوٹر کالج بہت نمایاں ہے۔ تاریخ میلسی مین تعلیم کے شعبے میں سرکاری سکولوں ؍ کالجوں میں جن اساتذہ نے گراں قدر خدمات سرانجام دیں ان میں سیدفتح محمد شاہ ، سید محمد ابراہیم شاہ ، منیر الدین قریشی ، الحاج ہیڈ ماسٹر منظور حسین ڈاہر ، پروفیسر سید زین الدین حسین ، پروفیسر سید محمد شبیر قطبی ، ڈاکٹر علی شیر طور، سید اقبال حسین شاہ، پروفیسر مظہر اے شاہ ، نور محمد آسی ، عطا محمد ( ماڑی مترو) فیض محمد عربی ٹیچر رائو محمد شریف طاہر ، محمد رضوان قریشی ، مشتاق احمد دین پوری ، ملک غلام رسول چوہدری ، سید زاہد علی شاہ نقوی ، دین محمد ، شبیر احمد سعیدی ، غلام حیدر بھٹی ،مرزا حاتم بیگ، میاں بشیر احمد ، شمس الدین ، میاں فیض احمد ، رانا شوکت علی (کرم پور) محمد شفیع عاصم ، مقصود عالم ، محمد امجد ڈاہر ، ظفر عباس شاہد، قاری نذیر احمد الہ آبادی ، مسز فرح جاوید ، سید ہ توقیر مظہر بخاری ، سید ہ نسیم اختر قطبی ، مسز کوثر شاہین وغیر ہ قابل ذکر ہیں ۔
تعلیم میں مسابقت کا رجحان پیدا ہو ا تو ٹیوشن کی ضرورت محسوس کی گئی پرائیویٹ ٹیوشن پڑھانے والوں میں ماسٹر فیض نسیم، چوہدری محمد حسین، سردار احمد ، محمد اکرم ، ملک غلام رسول ،وغیر ہ قابل ذکر ہیں ۔دینی تعلیم میں مفتی کلیم اﷲ اور غلام حیدر اویسی وغیر ہ ایک طویل عرصے سے مصروف عمل ہیں ۔