میلسی میں صحافت ؍اخبار نویسی کا شعبہ دوسرے شہروں اور قصبات کے مقابلے میں زیادہ فعال ہے تاہم قیام پاکستان کے وقت اخبار نویسی اور خبر رسانی کا کوئی رواج نہ تھا۔آزادی سے پہلے پیسہ ،ویر بھارت ،اور زمیندار نام کے اخبارات میلسی میں پڑھے جاتی تھے جن کی مجموعی سرکولیشن ایک درجن سے زیادہ نہ تھی پاکستان کے معرض وجود میں آ جانے کے بعد ابو الو فا عابد نظامی نے جنگ کراچی کیلئے لکھنا شروع کیا چنانچہ عابد نظامی کو میلسی میں صحافت کا بابا آدم کہا جا سکتا ہے عابد نظامی کے بعد غلام مصطفی عجمی ،حکیم عبدالصمد ،حاجی جان محمد (پریس فوٹو گرافر)ظہور حسین شاہ بخاری اور چوہدری شاہ محمد طاہر صحافت میں وارد ہوئے میلسی کی صحافت کوچھ فصلوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
پہلی کھیپ (قیام پاکستان کے بعد)۔ابوالو فاعابد نظامی۔حاجی غلام مصطفی عجمی۔حکیم عبدالصمد۔چوہدری شاہ محمد طاہر ۔ظہور حسین شاہ بخاری ۔ حاجی جان محمد(پریس فوٹو گرافر)
دوسری کھیپ(1975کے بعد ) ۔ جاوید عزیز۔میاں عزیزالرحما ن۔عبدالشکور قیصر۔ممتاز ڈاہر۔سعید انجم(پریس فوٹو گرافر)۔محمد صدیق مغل۔مرید عباس خاور۔قاری نزیر احمد الہ بادی
تیسری کھیپ(1990کے بعد) محمد ہمایوں اختر جوئیہ۔اشرف قریشی۔خالد محمود ندیم۔اقبال گلشن۔
چوتھی کھیپ(1992کے بعد)حکیم معین نجمی۔حفیظ اللہ شاہ۔عزیز اللہ شاہ طاہر ۔حاجی محمد سلیم بھٹی۔ سجاد سرور۔حاجی عزیز احمد۔چوہدری ثقلین شیر۔سجاد سعیدی۔محمد طارق ۔مرزامسرور بیگ۔
پانچویں کھیپ(1994کی بعد)اسدر خان شیروانی۔رائو رفیق۔ممتاز شیخ۔قاری خالد محمود۔عمران عباس تھہہیم۔سلیم شیر وانی۔شیخ عمران۔اعجاز کھچی۔فیاض کھچی۔خلیق الرحمن بھٹی۔محمد جعفر۔رائو توصیف احمد
اخبار نویسوں کی چھٹی فصل دوکوٹہ۔مترو۔گڑھا موڑ اور ٹبہ سلطان میں پروان چڑھ رہی ہے۔1996تک جن اخبار نویسوں نے بہت زیادہ لکھا ان میں حاجی غلام مصطفی عجمی سر فہرست ہیں۔علا وہ ازیں جاوید عزیز ۔میاں عزیزالرحمن۔مصنف کا شمار بھی زیادہ لکھنے والے صحافیوں میں ہوتا ہے۔مختلف زبانوں میں یہاں جنگ ، امروز ، نوائے وقت ، کوہستان ، مشرق، مغربی پاکستان ، آفتاب ، سنگ میل، مساوات ، پاکستان ، آواز،حرارت ، خبر یں ،پاکستان ٹائمز ، دی نیوز، فرنٹیر پوسٹ، دن ، نیا دن ، صحافت ، نیا اخبار ، عدل ، قومی آواز ، دی نیشن ، ڈان وغیرہ مقبول ہیں ۔