تحصیل میلسی میں سو سال قبل زراعت بہت پسماندہ تھی ۔ مشینی کا شت کا کوئی رواج نہ تھا اور مزروعہ رقبہ بہت کم تھا فصلوں کی آب باری کے لیے کنویں اور دریائے ستلج کے طغیانی نالے تھے ۔ قیام پاکستان سے کچھ عرصہ قبل تک زرعی زمینوں کا بڑا حصہ چند خاندانوں کی ملکیت تھا۔ محدود زرعی آمدنی اور شاہی اخراجات کے سبب اکثر زمیندار مقروض تھے۔ اسی زمانے میں در محمد خان کھچی کا بھی دیوالیہ ہو گیاتھا تب سرگانہ کے خواتین نے اُسکی معاشی بحالی کے لیے مدد کی ۔ بہت سے زمیندار ہندو مہاجنوں کے مقروض تھے اور انکی زمینیں رہن تھیں تب سر سکندر حیات کے زمانے میں تاریخی قرفہ ایکٹ منظور ہوا۔ جس کی رو سے مسلمان زمینداروں کی مرہون زمینیں ہندئوں کے رہن سے آزاد ہوگئیں ۔ 1920کی دہائی میں انگریز حکومت نے میلسی میں نہریں تعمیر کیں جس سے زراعت کی حالت قدرے سدھری ۔ تاہم 1976 تک کوئی بڑا زرعی انقلاب نہ آیا۔ 1970کی دہائی کے اوخر میں مشینی کاشت کا رواج بڑھ گیااُس وقت 88 ہزار ایکڑ رقبے پر پھٹی کی فصل کاشت کی جاتی تھی اور اوسط پیداوار 8من فی ایکڑ تھی وقت کے ساتھ ساتھ زرعی ٹیکنالوجی اور مشینی کا شت کی بدولت عصر موجود میں دولاکھ ستر ہزار ایکڑ رقبے پر پھٹی اور دولاکھ دس ہزار ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی جاتی ہے۔ ان دو بڑی فصلوں کے علاوہ سورج مکھی ۔ گنا۔ دھان اور ائل سیڈ اہم فصلیں ہیں۔ 1999 میں پھٹی کی اوسط پیداوار 23من جبکہ 2000میں گندم کی پیداوار اوسطا 28 من فی ایکڑ تھی ۔ 1999میں میلسی کا کل مزروعہ رقبہ تین لاکھ اٹھاون ہزار ایکڑ تھا۔ تحصیل میلسی میں پہلا EADAچوہدری احمد علی 1976میں تعینات ہوا۔ آج کے زمانے میں ممتاز خان منیس ، میاں غلام احمد جھنڈیر ، قاضی عبدالرزاق ، مقبول خان کھچی ، اظہر خان خاکو انی۔ آفتاب احمد خان کھچی ۔ میاں زاہد نواز ۔ حافظ مشتاق احمد ۔ نور الحق جھنڈیر ۔ میاں محمد عاصم اور چوہدری محمد ظفر وغیر کا شمار کامیاب اور خوشحالی کسانوں میں ہوتا ہے۔
نوٹ: سندھائی میلسی لنک کنال اور میلسی سائفین 1960 کی دہائی میں ایوب خان کے زمانے میں تعمیرہوئے ۔