بی ایچ یو کی بلڈنگ کو تعمیر ہوئے تین سال گزر گئے اب تک بند پڑی ہے۔

بی ایچ یو کی بلڈنگ کو تعمیر ہوئے تین سال گزر گئے اب تک بند پڑی ہے۔

تحصیل میلسی سے 10 کلومیٹر ملتان روڈ پر قصبہ گلہاڑی واقع ہے۔ قصبہ موضع گلہاڑی کے قریبی مواضعات میں موضع آرائیں واہن، زرین، ہردوگمب شامل ہیں۔

ان چاروں علاقوں میں تقریباً 15 ہزار سے زائد کی آبادی آباد ہے۔

ان قصبات میں ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے علاقہ مکین 10 کلومیٹر فاصلہ طے کر کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میلسی یا تقریباً آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر رورل ہیلتھ سنٹر جلہ جیم جانے پر مجبور ہیں۔

جس سے علاقے کے لوگوں کو ایمرجنسی کی صورت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

موضع گلہاڑی میں سال 2009ء میں پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سردار محمد خان کچھی (مرحوم) نے ایک کروڑ روپے سے زائد کی گرانٹ سے بنیادی ہیلتھ یونٹ ( بی ایچ یو ) کا سنگ بنیاد رکھا۔

گلہاڑی میں سرکاری جگہ نہ ہونے کی وجہ سے مقامی زمیندار میاں حق نواز نے ہسپتال کیلئے دو ایکڑ رقبہ عطیہ کر دیا تاکہ عوام کو بنیادی ہیلتھ یونٹ کی سہولیات مل سکے۔

سال 2012ء میں بیسک ہیلتھ یونٹ کی خوبصورت عمارت مکمل تعمیر ہو گئی۔ تین سال گزر جانے کے باوجود بلڈنگ بند پڑی خراب ہو رہی ہے۔

گلہاڑی کے رہائشی پروفیسر میاں محمد خالد بتاتے ہیں کہ گلہاڑی میں بی ایچ یو بنانے میں انہوں نے خصوصی خدمات سر انجام دیں تھی۔

انہوں نے بتایا کہ لوگوں کی سہولت کے لیے قریب کوئی ہسپتال موجود نہیں ہے۔ لوگوں کو علاج و معالجے کیلئے تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال میلسی جانا پڑتا ہے۔ جہاں ڈاکٹرز سمیت ادیات مشکل سے ہی میسر آتی ہیں۔

بی ایچ یو کی بلڈنگ کا سنگِ بنیاد 2009ء میں رکھا گیا۔

بی ایچ یو کی بلڈنگ کا سنگِ بنیاد 2009ء میں رکھا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ گلہاڑی میں بی ایچ یو کے قائم ہونے سے علاقے کے لوگوں کو علاج ومعالجے کیلئے بہت سی سہولیات انکی دہلیز پر ملنا تھی لیکن تین سال گزرنے کے باوجود ہیلتھ سنٹر کی بلڈنگ خالی پڑی ہے اور کوئی عملہ تعینات نہیں کیا جا رہا۔

متعدد بار متعلقہ محکموں سے رابطہ کیا ہے لیکن ابھی تک بی ایچ یو میں عملہ تعینات نہ کرنے کی کوئی وجہ سامنے نہیں آ سکی۔ عملہ تعینات نہ ہونے کی وجہ سے جنگلی جڑی بوٹیاں اُگ آئی ہیں جس سے عمارت کا نقصان ہو رہا ہے۔

گلہاڑی کے ہی رہائشی حافظ رضوان کا کہنا ہے کہ اگر بی ایچ یو کی تعمیر ہونے کے بعد سنٹر کام شروع کر دیتا تو قریبی پندرہ ہزار سے زائد آبادی کی مشکلات میں کمی ہو جانی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ معمولی سی کسی کو چوٹ لگ جائے یا کسی تکلیف کی صورت میں علاقہ مکینوں کو دس کلومیٹر سفر طے کر کے میلسی ہسپتال جانا پڑتا ہے۔

‘ایک کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کر کے عمارت بنائی گئی ہے اور محکمہ صحت کے حوالے بھی کر دی گئی ہے، لیکن ابھی تک عملہ اور دیگر سہولیات کی چیزیں نہیں پہنچی۔’

پنجاب رورل سپورٹ پروگرام کے ڈسٹرکٹ انچارج عامر قریشی کا کہنا ہے کہ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ عمارت کی مکمل تعمیر ہونے کے بعد محکمہ صحت کے حوالے کریگا۔

‘اس کے بعد محکمہ صحت ان کے ادارے پی آر ایس پی کے حوالے کریں گے جس کے بعد عملہ تعینات کیا جائے گا۔ جب بلڈنگ ان کے حوالے کی جائے گی اس کے بعد دیکھ بھال کی ساری ذمہ داری محکمہ صحت کے سپرد ہو گی۔ بلڈنگ کی دیکھ بھال کے لیے انہوں نے اپنی طرف سے ایک چوکیدار اور ایک مالی رکھا ہوا ہے تاکہ بلڈنگ کی دیکھ بھال ہو سکے اور بلڈنگ خراب نہ ہو۔’

بی ایچ یو میں بڑی بڑی جھاڑیاں اُگی ہوئی ہیں۔

بی ایچ یو میں بڑی بڑی جھاڑیاں اُگی ہوئی ہیں۔

محکمہ ہیلتھ کے زرائع کے مطابق بی ایچ یو کے لیے بننے والی بلڈنگ کی جگہ سب ہیلتھ سینٹر موجود تھا پھر اس کو پرموٹ کر کے بی ایچ یو کا درجہ دیدیا گیا، تاہم ٹھیکیدار نے بلڈنگ کی تعمیر مکمل نہیں کی اس لیے کوئی عملہ نہیں بیھجا گیا۔

زرائع کا کہنا ہے کہ بی ایچ یو کے لیے عملہ کی منظوری تاحال نہیں ہوئی۔

محکمہ بلڈنگ کے ایس ڈی سی محمد اشرف نے موقف اختیار کیا ہے کہ بی ایچ یو گلہاڑی کی عمارت سال 2011ء میں ہی محکمہ صحت کے حوالے کر دی گئی تھی۔

‘بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ کے پاس بی ایچ یو کی بلڈنگ محکمہ صحت کو حوالے کرنے کی دستاویزات کی کاپیاں موجود ہیں۔ اب بی ایچ یو کو چلانا اور عملہ تعینات کر کے عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا محکمہ صحت کا کام ہے۔’

بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ وہاڑی کے سابق سب انجینئر غلام مصطفٰے کہتے ہیں کہ انہیں اچھی طرح یاد ہے کہ مئی 2011ء میں اس وقت کے ڈی سی او وہاڑی نے بی ایچ یو گلہاڑی کا دورہ کرنا تھا تو انہوں نے بلڈنگ کی مکمل صفائی ستھرائی کروا کر محمکہ صحت کے حوالے کر دی تھی۔

ای ڈی او ہیلتھ وہاڑی ڈاکٹر افضل بشیر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بی ایچ یو گلہاڑی کے حوالے سے اپنا موقف دینے سے انکار کر دیا۔