کہا جاتا ہے کہ تحصیل میلسی کا قصبہ کرم پور ایک شخص کرم داد دائود پوتا (داداپوترا)کے نام پر قائم ہے دادا پوترے ریاست بہاولپور کے حکمران عباسی خاندان کی اولاد ہیں ایک زمانے میں تحصیل میلسی ریاست بہاولپور کی حصہ تھی چنانچہ خیال ہے کہ اس وقت کے حکمرانوں نے یہ زمینیں اپنی اولاد کو عطا کیں ۔بعد کے ایک زمانے میں یہاں پروسیر قوم کے لوگ کے معزز زمیندار تھے اور یہ قصبہ کرم پور وسیراں والا کہلاتا تھا۔اب بھی اس قصبے کے بوڑھے لوگ کرم پور کو کرم پور وسیراں والا کے نام سے پکارتے ہیں ۔کرم پور میں پہلا پرائمری سکول 1906میں قائم ہوا اس وقت کرم پور میں کثیر تعداد میں ہندو اور سکھ باشندے رہتے تھے سکھوں کی عبادت گاہ گوردوارہ اب بھی قصبہ کرم پور میں مو جود ہے قیام پاکستان کے وقت کرم پور میں وسیرہ،وریا،بورانہ اور سہو نسل کے لوگ مسلمان آبادی میں ممتاز تھے ۔غیر مسلم آبادی کے انخلاء کے بعد یہاں راجپوت برادری کثیر تعداد میں آباد ہوئی۔1996سے پہلے کرم پور کو یونین کونسل کا درجہ حاصل تھا تب عوام کے مطالبے پر اور مختلف سیاسی کارکنوں کی دلچسپی کے سبب کرم پور کو ٹائون کمیٹی کا درجہ دیا گیا۔کرم پور بوجوہ زیادہ ترقی نہیں کر سکا تاہم قصبے میں ایک ہائر سکینڈری سکول،ایک گرلز ہائی سکول اور ایک مڈل اور پرائمری سکول اور پرائیوٹ سیکٹر میں تین سکینڈری سکول قائم ہیں کرم پور قصبے میں اندازے کے مطابق چار ہزار راجپوت آباد ہیں اس قصبے میں میاں فیض احمد بورانہ،میاں اقبال بورانہ،تاج محمود بورانہ،ذوالفقار علی معصومی،حاجی نعمت علی،رائو محمد یٰسین،رائومبارک علی جاوید،رائو محـمد یعقوب خان،سردار خان وسیر ،غلام یٰسین خان پٹھان،اعجاز خان کھچی،اشرف قریشی،سید آغاز حسین شاہ،اقبال حسین شاہ،شفیق احمد بھٹی،خلیق احمد بھٹی،اے ڈی صابر،صوفی محمد رمضان چغتائی،مشتاق خان سہو،ریاض حسین بھٹہ،رانا شوکت علی،رانا محمد سجاول،سید علمدار حسین شاہ،امان اللہ خان بورانہ،شیخ مقبول احمد پریس رپورٹر وغیرہ مشہور رہے ہیں ۔