وہاڑی کی تحصیل میلسی کے شہریوں کو سوئی گیس کی سہولت دینے کے لیے سال 2006ء میں منصوبہ شروع کیا گیا۔ محکمہ سوئی نادرن گیس نے میلسی کو سات فیز میں مکمل کرنا تھا۔

پہلے فیز میں میلسی کا علاقہ اندرون شہر، پکا بازار، وارڈ نمبر 16، محلہ قاضی اقبال اور محلہ جوئیوں والا شامل تھا۔

دوسرے فیز میں فدہ ٹاؤن اور شہر کے علاقے کو نامکمل چھوڑ کر تیسرے فیز میں میلسی کے پسماندہ علاقے جلہ جیم میں سوئی گیس کی لائن بچھا کر گیس فراہم کر دی گئی۔

میلسی شہر کے وسط میں واقع فدہ ٹاؤن جس میں دو ہزار سے زائد اور محلہ ادریس پورہ میں 50 سے زائد گھر ایسے موجود ہیں جو تاحال سوئی گیس کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔

محلہ ادریس پورہ کے رہائشی محمد جمیل بتاتے ہیں کہ ادریس پورہ میں گیس پائپ لائن موجود نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ علاقے کے معزز لوگوں کے ہمراہ سابق ایم این اے محمود حیات خان کچھی کو ملے اور ان سے فدہ ٹاؤن سے ملحقہ محلہ ادریس پورہ میں گیس کی فراہمی کا مطالبہ کیا تھا۔

’ایم این اے نے ہمیں کہا کہ کچھ پیسے لگے گے اور محلہ ادریس پورہ میں گیس پہنچا دی جائے گی جس پر ہم مایوس ہو کر واپس آ گئے۔‘

ادریس پورہ کے رہائشی محمد امین کہتے ہیں کہ سال 2012ء میں محمد جمیل، محمد صغیر، غلام عباس، فلک شیر، غلام سجاد، محمد الطاف، محمد مشتاق اور محمد شفیع کو گیس میٹر کے لیے ڈیمانڈ نوٹسز جاری کر دیئے گئے تھے لیکن تاحال فدہ ٹاؤن اور محلہ ادریس پورہ کے لوگ گیس کی سہولیات سے محروم ہیں۔

فدہ ٹاؤن کو چوتھے فیز میں مکمل کرنا تھا لیکن محکمانہ مجبوریوں کی بنا پر چار گلیوں کا کام باقی ہے۔ وہ آنے والے کچھ دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔’جنرل منیجر سوئی نادرن گیس‘

’محکمہ سوئی گیس کے مطابق گیس کا میٹر لگوانے کیلئے صارف کی جانب سے درخواست دی جاتی ہے۔ اسکے بعد محکمہ جگہ کا سروے کرتا ہے اور مکمل تصدیق کے بعد ڈیمانڈ نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔ ڈیمانڈ نوٹس پر درج رقم بنک میں جمع کروائی جاتی ہے جس کے بعد میرٹ پر میٹر جاری ہوتے ہیں۔‘

محمد امین کہتے ہیں کہ انہوں نے 22 فروری 2012ء کو ڈیمانڈ نوٹس کی مد میں تین ہزار روپے بنک آف پنجاب خانیوال میں جمع کروائے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ تقریباً چار سال قبل جمع ہونے والے ڈیمانڈ نوٹس پر تاحال میٹر نہیں لگائے گئے۔

’ہم نے ڈیمانڈ نوٹس جاری ہونے کے آٹھ ماہ بعد ہائی کورٹ ملتان میں رٹ دائر کی تھی جس پر عدالت اور ایم ڈی لاہور سوئی گیس نے حکم جاری کیا تھا کہ دو ماہ میں فدہ ٹاؤن محلہ ادریس پورہ کے صارفین کو گیس فراہم کریں۔‘

امین بتاتے ہیں کہ محکمہ سوئی گیس ملتان کے ایگزیکٹیو انجینئر غلام عباس اور ڈویلپمنٹ انجینئر شاہ جہان نے سات جنوری 2013ء کو عدالت میں بیان دیا کہ انہوں نے چوتھے فیز میں فدہ ٹاؤن کا بقیہ حصہ مکمل کر کے کنکشن بھی لگا دیئے ہیں۔

محمد صغیر محلہ ادریس پورہ کے رہائشی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ محکمہ سوئی گیس کا عملہ کئی بار ادریس پورہ کا نقشہ بنا کر لے گیا ہے لیکن چار سال صرف زبانی تسلیاں دی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ میں محکمہ سوئی گیس نے عدالت کو پہلی بار بتایا کہ محکمہ نے فدہ ٹاؤن کو مکمل کر لیا ہے جبکہ محکمے نے دوبارہ عدالت کو بتایا کہ محلہ ادریس پورہ فدہ ٹاؤن کا حصہ ہی نہیں ہے یہ الگ ٹاؤن ہے۔

اسسٹنٹ کمشنر تحریری رپورٹ میں تصدیق کر چکے ہیں کہ محلہ ادریس پورہ فدہ ٹاون کا حصہ ہے

اسسٹنٹ کمشنر تحریری رپورٹ میں تصدیق کر چکے ہیں کہ محلہ ادریس پورہ فدہ ٹاون کا حصہ ہے

محمد صغیر کہتے ہیں کہ 10 سال سے میلسی میں گیس کا منصوبہ شروع ہے۔ جلہ جیم جیسے پسماندہ علاقے میں بھی گیس پہنچ گئی ہے جبکہ شہر کے عین وسط میں موجود فدہ ٹاؤن اور ادریس پورہ گیس کی سہولت سے محروم ہیں۔

محمد اعظم فدہ ٹاؤن کے رہائشی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ فدہ ٹاؤن کی سات گلیوں میں گیس پائپ لائن بچھا دی گئی لیکن مین لائن سے کنکشن نہیں کیا گیا۔

سوئی گیس کے جنرل منیجر ملتان محمد حنیف رامے نے موقف اختیار کیا ہے کہ فدہ ٹاؤن کو چوتھے فیز میں مکمل کرنا تھا لیکن محکمانہ مجبوریوں کی بنا پر چار گلیوں کا کام باقی ہے جو آنے والے چند دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔

جب جنرل منیجر محمد حنیف رامے سے سوال کیا گیا کہ فدہ ٹاؤن کے محلہ ادریس پورہ میں پائپ لائن ہی نہیں تو وہاں کے رہائشیوں کو ڈیمانڈ نوٹس کیسے جاری کر دیئے گئے؟

ان کا کہنا تھا کہ میلسی کے کچھ سیاسی لوگوں نے اپنے ٹاؤٹ ان کے پیچھے لگا رکھے ہیں جنہوں نے ان کے خلاف مختلف محکموں میں درخواستیں دے رکھیں ہیں۔

محمد حنیف رامے نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا کہ لائن بچھائے بغیر ڈیمانڈ نوٹس جاری نہیں ہو سکتے۔