میلسی تا ملتان مین روڈ سنہ 2014ء سے زیر تعمیر ہے

میلسی تا ملتان مین روڈ سنہ 2014ء سے زیر تعمیر ہے

"دو سال گزرنے کو ہیں لیکن میلسی سے ملتان جانے والا مین جی ٹی روڑ کی تعمیر تاخیر کا شکار ہے۔ اگر نیت سے کام کیا جاتا تو 35 کلومیٹر سڑک کی تعمیر آٹھ ماہ میں مکمل ہو سکتی تھی۔ "محمد اصغر”

محمد اصغر سماجی کارکن ہیں اور وہ محلہ دہرہٹہ کے رہائشی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ میلسی سے ملتان روڈ کی تعمیر رکنے کی وجہ سے راہ گیروں کے علاوہ جہاں سڑک کنارے دس سے زائد آبادیوں کے تقریباً تین ہزار افراد پریشانی میں مبتلا ہیں وہیں اس روٹ پر چلنے والی گاڑیوں کے مالکان گاڑیوں کا نقصان ہونے سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔

روڈ کنارے آبادیوں میں محلہ ریاض، امام آباد، دھرہٹہ، ڈھمکی پل، سفیر نگر، جہانواہ، چک رسول پورہ، ہری مائنر، اڈا 19 ایل، چک نمبر 143 ڈبلیو بی اور دو کوٹہ شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ہمسائے اللہ بخش دمہ کے مریض ہیں جن کو پہلے ہی سانس لینے میں مشکلات تھیں، روڈ کی تعمیر روکنے کی وجہ سے گرد اور ریت اڑ کر ان کے گھروں میں آ رہی ہے جس وجہ سے وہ دو ماہ قبل گاؤں اپنے رشتے دار کے ہاں مجبوراً رہنے کے لیے چلے گئے ہیں۔

میلسی سے ملتان جانے والا مین ہائی وے روڈ اس تعمیر سے پہلے 80ء کی دہائی میں 35 کلومیٹر ٹبہ سلطانپور تک 20 فٹ کشادہ تعمیر کیا گیا جو گزشتہ دس سے خستہ حالی کا شکار تھا۔

دو سال قبل سنہ 2014ء میں ایم این اے سعید احمد خان منیس نے 43 کروڑ 33 لاکھ روپے روڈ کے لیے منظور کروا کر تعمیر شروع کروا دی۔

اگر روڈ کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے بروقت فنڈز مل جاتے تو میلسی تا ملتان روڈ چھ سے آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں مکمل ہو سکتا تھا۔ "ٹھیکیدار ملک منظور احمد”

میلسی محکمہ ہائی وے کے ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق نئی بننے والی روڈ کو مزید آٹھ فٹ کشادہ کیا جا رہا ہے، جس کے بعد میلسی تا ملتان مین روڈ 28 فٹ کشادہ ہو جائے گی۔

محمد اصغر بتاتے ہیں کہ ٹبہ سلطان پور سے دو کوٹہ تک 16 کلومیٹر روڈ کی تعمیر مکمل کر دی گئی جبکہ دو کوٹہ سے میلسی تک تقریباً 19 کلومیٹر روڑ گزشتہ دو سال سے زیر تعمیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ ہائی وے کے ٹھیکیدار کی جانب سے روڈ میلسی سے دو کوٹہ تک روڈ جگہ جگہ سے کاٹ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے گزرنے والے مسافر پریشانی کا شکار ہیں۔

"روڈ زیر تعمیر ہونے کی وجہ سے پانی کے چھڑکاؤ کا بھی کوئی انتظام موجود نہیں، جس سے ہر طرف مٹی اور دھول کی وجہ سے لوگوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔”

سفیر نگر کے رہائشی غلام مصطفی گزشتہ پندرہ سال سے میلسی تا ملتان گاڑی چلا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ میلسی سے ملتان کے دو چکر لگاتے ہیں۔ سنہ 2014ء سے اب تک تیسری بار گاڑی کے نئے ٹائر اور ایک بار شاخ ڈلوا چکے ہیں جبکہ روڑ کی تعمیر سے قبل یہی ٹائر ڈیڑھ سال بعد تبدیل کرنا پڑتے تھے۔

میلسی سے دو کوٹہ تک روڈ کو کئی جگہ سے کٹ لگا دیئے گئے ہیں

میلسی سے دو کوٹہ تک روڈ کو کئی جگہ سے کٹ لگا دیئے گئے ہیں

غلام مصطفٰی کہتے ہیں دوسرے علاقوں میں بھی روڈ بنتے دیکھے ہیں جن کی تعمیر پر اتنا وقت نہیں لگایا جاتا، میلسی تا ملتان کا سفر ایک گھنٹہ پندرہ منٹ کا تھا جو روڑ نہ بننے کی وجہ سے دو گھنٹے سے بھی زائد کا ہو گیا ہے۔

میلسی کے رہاشی محمد ارسلان ملتان ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ دو دن بعد اپنی گاڑی پر گھر آتے ہیں، دو سال میں روڈ تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے ان کی گاڑی کی قیمت آدھی رہ گئی ہے۔

"کسی نے مجھے بتایا کہ ٹبہ سلطان پور سے مترو اور مترو سے میلسی آنے جانے کا راستہ صاف ہے، گزشتہ چند ماہ سے میں اس راستے آ جا رہا ہوں تاہم اس راستے مجھے 10 کلومیٹر اضافی سفر کرنا پڑتا ہے۔”

روڈ کی تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار ملک منظور احمد روڈ کی تعمیر میں تاخیر کو فنڈز کی عدم دستیابی قرار دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بروقت فنڈز مل جاتے تو روڈ چھ سے آٹھ ماہ کی مدت میں مکمل ہو جانا تھا۔

میلسی میں واقع محکمہ ہائی وے کے سب انجینئر محمد بابر بھی روڈ کی تعمیر میں تاخیر کو فنڈز کی عدم دستیابی کہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میلسی سے ملتان روڈ تین حصوں میں مکمل کیا جانا تھا، دو حصے مکمل ہو گئے ہیں جبکہ دو کوٹہ سے میلسی تک روڈ کی تعمیر کے لیے فنڈز آ گئے ہیں۔

مزید بتایا کہ روڈ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ایک سال تک روڈ کی مرمت کا کام بھی ٹھیکیدار کے ذمہ ہو گا جس کے بعد اس روڈ کی دیکھ کی ذمہ داری محکمہ ہائی وے کے پاس آ جائے گی۔

ایم این اے سیعد احمد منیس نے سجاگ کو بتایا کہ روڈ کی تعمیر کا کام جاری ہے، فنڈز تین حصوں میں جاری کیے جانے تھے، جب فنڈز ختم ہوئے اس کے بعد صوبائی گورنمنٹ نے محکمے کو فنڈز دوبارہ جاری کر دیئے ہیں۔