میلسی تاریخ کے آئینے میں
میلسی کا شمار ملتان کے قدیم ترین علاقوں میں ہوتا ہے جس کا نام مورخین کے مطابق ’ملہی‘ قوم کے نام سے اخذ کیا گیا ہے۔ ’ملہی‘ قوم ملتان میں رہتی تھی۔
320 قبل مسیح میں جب سکندرِ اعظم نے ملتان پر حملہ کیا تو ملہی قوم کے بہت سے لوگ دریائے ستلج کے شمال میں آ کر آباد ہو گئے جہاں مَلہی قوم کے رہنے کی وجہ سے میلسی کہلانے لگا۔
محمد بن قاسم نے 712ء میں ملتان پر حملہ کیا تو اس وقت میلسی بھی موجود تھا لیکن یہاں پرتھوری راج کی حکومت تھی۔ شہاب الدین غوری نے 1292ء میں پرتھوی راج چوہان کو شکست دی۔
اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں بننے والی ملک واہن اور جلہ جیم کی بادشاہی مسجد اور مزار خواجہ ابو بکر وراق کا مزار موجود ہیں۔
تقسیم سے پہلے میلسی کی آبادی تقریباً 20 ہزار نفوس پر مشتمل تھی جس میں 50 فیصد مسلمان، 30 فیصد ہندو اور 20 فیصد سکھ اور مسیحی آباد تھے۔
تحصیل کا درجہ
پہلی دفعہ میلسی کو تحصیل کا درجہ 1849ء میں ملا تب یہ ضلع ملتان کا حصہ تھی۔ 1935ء میں میلسی کو سب ڈویژن کا درجہ دیا گیا لیکن سات سال بعد 1942ء میں درجہ کم کر کے دوبارہتحصیل بنا دیا گیا۔
قیام پاکستان 1947ء کے بعد بدستور ملتان کی ہی ایک تحصیل کا درجہ حاصل رہا۔
1976ء میں جب وہاڑی کو ضلع کا درجہ دیا گیا تو میلسی کو وہاڑی کی تحصیل بنا دیا گیا۔
اورنگذیب دور میں بننے والی ملک واہن میں بادشاہی مسجد
حالیہ الیکشن میں ہونے والی حلقہ بندیوں میں تحصیل میلسی کے دیہی علاقہ کو 38 یونین کونسلز اور شہری حلقہ کو میونسپل کمیٹی کے 12 وارڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
محلِ وقوع
تحصیل میلسی لاہور سے تقریباً 346 کلومیٹر مغرب، قدیم شہر ملتان سے 84 کلومیٹر جنوب اور وہاڑی سے 42 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔
میلسی کے جنوب میں کہروڑ پکا، مشرق میں حاصل پور، مغرب میں خانیوال، ملتان اور شمال میں وہاڑی شہر آباد ہے۔
آبادی
1998ء کی مردم شماری کے مطابق تحصیل میلسی کی کل آبادی سات لاکھ سے زائد ہے۔ ان میں 56 فیصد خواتین اور 44 فیصد مرد ہیں۔
میلسی میں 30 فیصد آبادی شہری علاقوں میں اور 70 فیصد آبادی دیہاتی علاقوں میں مقیم ہے۔
برادریاں
میلسی میں مختلف برادریوں میں جٹ جوئیہ، آرائیں، راجپوت، کھچی، بھٹی، پٹھان، سید برادریوں کے لوگ آباد ہیں۔
سیاسی شخصیات
تقسیم کے بعد ہجرت کرنے والوں میں کرنال سے یوسفزئی میلسی آ کر آباد ہوئے اور جلہ جیم میں رہائش پذیر ہو گئے۔ 1970ء میں ارشاد احمد خان یوسفزئی میلسی کے ایم این اے بنے۔
عطاء حسین خاکوانی رکن مغربی پاکستان اسمبلی، میاں ممتاز خان بھابھہ چار بار ایم این اے اور ایک بار ضلع کونسل کے ناظم رہے۔

سیعد خان منیس ایم این اے سابق سپیکر پنجاب اسمبلی کا تعلق بھی میلسی سے تھا۔
غلام حیدر احمد خان کچھی میلسی کے پانچ بار ایم پی اے رہے۔
نور محمد خان بھابھہ سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اور تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے کوارڈی نیٹر بھی رہ چکے ہیں۔
میلسی میں میاں محفوظ آرائیں پاکستان مسلم لیگ ن کے ایم پی اے رہے۔ بعد میں مختلف ادوار میں ان کے بیٹے میاں زاہد نواز اور میاں ماجد نواز بھی ایم پی اے رہے۔
ریلوے اسٹیشن
میلسی میں ریلوے اسٹیشن 1929ء میں بنایا گیا اور ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ساتھ ڈسپنسری بنائی گئی جسے پھر ریلوے ہسپتال کا درجہ دے دیا گیا۔
میسلی کا ریلوے اسٹیشن 1929ء میں بنایا گیا
زراعت
میلسی کا قابلِ کاشت رقبہ تقریباً چار لاکھ پانچ ہزار چار سو 83 ایکڑ ہے جہاں گندم، کپاس، گنا، دھان، چارہ جات، تِل دار اجناس کے لیے اراضی زرخیز ہے۔
کاٹن فیکٹریاں
میلسی میں ایک سو کے قریب کاٹن فیکٹریاں موجود تھیں ان میں اب صرف تقریباً 20 فیکٹریاں باقی ہیں۔
لوگوں کا روز گار جننگ فیکٹریوں میں کام کرنا تھا۔ فیکٹریاں بند ہونے کی وجہ سے زیادہ تر مزدور ملتان، لاہور، فیصل آباد اور کراچی میں مزدوری کے لیے منتقل ہو گئے ہیں۔
جھنڈیر لائبریری
جھنڈیر لائبریری کو ایشیاء کی ساتویں لائبریری کا اعزاز حاصل ہے
میلسی کے موضع جھنڈیر میں بین الاقوامی جھنڈیر لائبریری کو ایشیاء کی ساتویں بڑی لائبریری ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
میلسی سائفن
میلسی کی مشہور نہریں سندھنائی میلسی لنک کنال، ڈھمکی کینال، میلسی بہاول کنال، کرم برانچ کنال اور پاکپتن کنال ہیں۔

1962ء میں دریائے ستلج کے مقام پر سائفن تعمیر کیا گیا جہاں دریا اور نہر کے پانی کو الگ الگ گزارا جاتا ہے جو ایک تفریحی مقام کی حثیت رکھتا ہے۔
قدیم آبادیاں
میلسی کی قدیم آبادیوں میں نام شنکر پورہ، دھرمپورہ، مدینہ ٹاون، کچا کوٹ ہیں۔
اہم بازار
اہم بازاروں میں تحصیل بازار، پیپل بازار، فدہ بازار اور تھانہ بازار ہیں جبکہ جہاں ٹِلو پورہ (محلہ صدیقِ اکبر)، رسولپورہ، محمدی محلہ اور ریاض آباد شامل ہیں۔
سکولز
میلسی میں 506 سرکاری سکول ہیں
میلسی میں پہلا گورنمنٹ پرائمری سکول 1864ء میں بنایا گیا جسے 1890ء تک ہائی سکول کا درجہ مل گیا۔ تحصیل میلسی میں 596 سرکاری سکول موجود ہیں۔
کالجز
میلسی کے کالجز 1980ء میں ڈگری کالجز کا درجہ دے دیا گیا
1976ء میں بوائز کالج، 1980ء میں لڑکیوں کا کالج بنایا گیا جنہیں 1995ء میں ڈگری کالج کا درجہ دے دیا گیا۔
نمایاں شخصیات
لوک ورثے پر کام کرنے اور انٹر نیشنل ایوارڈ حاصل کرنے والے مشہور آرٹسٹ سعید احمد انجم کا تعلق بھی میلسی سے ہے۔
انٹرمیڈیٹ کے سٹوڈنٹ احسن نواز جو انٹرنیشنل سائنس فیئر میں امریکہ میں دو بار پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں ان کا تعلق بھی میلسی سے ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان کے مشہور نعت خواں خورشید بیگ، مشہور شاعر عباس تابش کا تعلق بھی میلسی سے ہے۔
ہسپتال
میلسی کا تحصیل ہسپتال ڈسٹرکٹ بورڈ نے 1918ء میں ڈسپنسری کی صورت میں شروع کیا جسے 1932ء میں ہسپتال بنا کر یہاں میڈیکل آفیسر متعین کیے گئے اور 12 بستر کا وارڈ بنا دیا گیا بعدازاں مختلف ادوار میں اس کی اپ گریڈیشن ہوتی رہی پہلے 60 بیڈ کا ہسپتال بنا پھر ہسپتال کو 90 بیڈ کا ہسپتال بنا دیا گیا۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب 90 بیڈ کا جب اضافہ کیا گیا تو پُرانے 60 بیڈ والی عمارت کو بند کر دیا گیا۔








