پاکستان سے پہلے تحصیل میلسی میں علاج معالجے کی انتہائی کم سہولتیں میسر تھیں ۔ آزادی سے کچھ عرصہ پہلے ایک کوالیفائیڈ ڈاکٹر ودھاوا رام سول ہسپتال میلسی شہر میں تعنیات تھا ۔ پاکستان کے بننے کے بعد ایک زمانے تک پرائیویٹ سیکٹر میں ایک ڈاکٹر بھی نہ تھا۔ تب عطائی یونانی حکمت اور ایلوپیتھی کے ذریعے لوگوں کا علاج کرتے تھے ڈاکٹر سردار سیف اﷲخان پہلا کوالیفائیڈ ڈاکٹر ہے جس نے میلسی شہر میں باقاعدہ پرائیویٹ پریکٹس شروع کی ۔ بعد میں ڈاکٹرمحمد امین چغتائی اور ڈاکٹر منظور حسین ماہنی میڈیکل کے شعبے میں وارد ہوئے ۔ آج کل تحصیل بھر میں چھ درجن کے لگ بھگ کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کے علاوہ حکیم اور ہومیو ڈاکٹر پریکٹس کر رہے ہیں۔
تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میلسی میں متعدد ڈاکٹر اور سرجن شب و روز مریضوں کا علاج کرتے ہیں پیپلزپارٹی کے اولین دور اقتدار میں ارشاد احمد خان اور قاضی محمد اسمعیل کے زمانے میں اس ہسپتال کی عمارت کو از سر نو تعمیر کیا گیا۔ اور وقت کی ضرورت کے مطابق اس کو وسعت دی گئی ۔ علاوہ ازیں آج کے دور میں تحصیل بھر میں مختلف قصبات میں رورل ھیلتھ سنٹر اور دیہات میں بیسک ہیلتھ یونٹ اور ضلع کونسل وہاڑی کی ڈسپنسریاں قائم ہیں ۔ میڈیکل کی تاریخ میں قیام پاکستان کے بعد تحصیل میلسی میں جن معالجین نے عزت اور شہر ت پائی ان میں ڈاکٹر سردار سیف اﷲ خان ، ڈاکٹر امین چغتائی، ڈاکٹر منظور حسین ماہنی ، ڈاکٹر رائو وکیل احمد خان ، ڈاکٹر رائو عاشق علی ، ڈاکٹر فضل کریم ، ڈاکٹر نسیم احمد خان ،ڈاکٹر عاشق علی مرزا، ڈاکٹر ساجد خان کھچی ، ڈاکٹر در محمد خان کھچی ، ڈاکٹر نذیر احمد ، ڈاکٹر عبدالکریم ، حکیم ریاض احمد خان ، حکیم معین نجمی، ڈاکٹر خورشید بیگ میلسوی ، ہومیو ڈاکٹر عبدالرشید لاڑ، ہومیو ڈاکٹر چوہدری اعجاز احمد وغیر ہ شامل ہیں ۔ میلسی کے ڈاکٹروں کی فلاح اور اجتماعی مفاد کے لیے پی ۔ایم ۔ اے قائم ہے ۔