جلہ جیم

جلہ جیم تحصیل میلسی کا بہت پرانا قصبہ ہے۔ تاریخ سے واقفیت رکھنے والے بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ جلہ جیم میلسی شہر سے پرانا ہے۔ سنئیر اخبار نویس محمد جاوید عزیز کی تحقیق اور میلسی بار کے صدر میاں عبدالسلام ایڈووکیٹ کے دعوے کے مطابق قصبہ جلہ جیم کی بنیاد چار سو سال قبل میاں عبدالسلام کے جدا مجد حکیم جلال الدین نے ڈالی ۔ جلال الدین کے بیٹے میاں رکن الدین نے جلہ جیم کی تاریخی بادشاہی مسجد 1058ء میں تعمیر کرائی۔
جلہ جیم قیام پاکستان کے بعد سے میلسی تحصیل میں ایک اہم سیاسی مرکز رہا ہے۔ میلسی کے تاریخی کردار ارشاد احمد خان اور اسکے بھائیوں کی جلہ میں زرعی زمینیں ہیں ۔جلہ جیم میں محمود حیات خان عر ف ٹوچی خان کی مستقل رہائش بھی ہے۔ جلہ جیم میں اہلسنت دیو بند کی مشہور درسگاہ اشاعت القرآن قائم ہے ۔ گورنمنٹ پرائمری سکول جلہ جیم تعلیم کے بلند معیار اور تعلیمی وظائف کے حوالے سے مشہور رہا ہے۔ جلہ جیم مہندی کے حوالے سے پاکستان بھر میں متعارف ہے ۔یہ قصبہ سپاہ صحابہ پاکستان کا اہم مرکز بھی ہے۔ جلہ جیم کے مشاہر میں ارشاد احمد خان ۔ محمود حیات خان عرف ٹوچی خان ۔حکیم قمرالزمان ۔ میاں جمال محمد ۔ چوہدری رحیم بخش ۔ عبدالرحمن خالد ۔ رائو رفیق احمد ۔ ڈاکٹر فضل کریم ۔ میاں شعیب ارائیں۔ میاں عبدالمالک ۔ جہانگیر خان (سابق جنرل سیکرٹری PYO پنجاب) یاسر خان۔ ماسٹر نذیر محمد ۔ ملک عبداﷲ ۔ غلام مرتضی بھٹی وغیرہ شامل ہیں۔جلہ جیم کی ممتاز سماجی شخصیت حکیم قمر الزمان نے 1947میں مہاجرین کی آباد کاری میں بھر پور تعاون کیا۔ اور ایک طویل عرصہ مہاجرین کا علاج مفت کرتا رہا۔

betcio   betcio   betcio   onwin   onwin   betgaranti   betgaranti   betgaranti   spinco   betebet   betebet   betebet   onwin   betebet   betebet   betgaranti   betganrati   betgaranti   spinco   betgaranti   betgaranti   betgaranti   betgaranti   betgaranti   betebet   betebet   onwin   betebet   betebet   betebet   casibom   onwin   betpipo   marsbahis   grandpashabet   casibom