تاریخ

میلسی میں قبل از اسلام دراوڑ قوم آباد تھی جوگندمی رنگت کے تھے اور آریائی قوم وسظی ایشیاء سے یہاں آئی تو ان سے 1100 سال تک دراوڑ قوم لڑتی رھی اور دراوڑوں کو زیر کیا اورموجودہ ھندو مذھب کو وید مذھب سے الگ کر کے یہاں کی آبادی کو ذات پات میں تقسیم کر دیا . اور مذھب کو بطور ھتھیار استعمال کرتے ھوئے اپنی حکومت اور عیاشی کی راہ ھموار کی. قیام پاکستان کے وقت میلسی میں ھندو اور سکھ کافی تعداد میں آباد تھے . میلسی کی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ھندو اوقاف اور خالصہ اوقاف کا خاصہ رقبہ اسی تا ریخی حقیقت کی تصدیق کرتا ھے

میلسی کا نام مورخین کے مطابق ’ملہی یا ملہے‘ قوم کے نام سے اخذ کیا گیا ہے۔ ’ملہی یا ملہے‘ قوم ملتان سے آ کر یہاں آباد ھوگئے

320 قبل مسیح میں جب سکندرِ اعظم نے ملتان پر حملہ کیا تو ملہی قوم کے بہت سے لوگ دریائے ستلج کے شمال میں آ کر آباد ہو گئے جہاں مَلہی یا ملہے قوم کے رہنے کی وجہ سے میلسی کہلانے لگا۔

محمد بن قاسم نے 712ء میں ملتان پر حملہ کیا تو اس وقت میلسی بھی موجود تھا لیکن یہاں پرتھوری راج کی حکومت تھی۔ شہاب الدین غوری نے 1292ء میں پرتھوی راج چوہان کو شکست دی۔

اورنگزیب عالمگیر کے عہد میں بننے جلہ جیم کی بادشاہی مسجد اور مسجد ملک واہن اور مزار خواجہ ابو بکر وراق تاریخی ہیں۔

تقسیم سے پہلے میلسی کی آبادی تقریباً 20 ہزار نفوس پر مشتمل تھی جس میں 50 فیصد مسلمان، 30 فیصد ہندو اور 20 فیصد سکھ اور مسیحی آباد تھے۔

تحصیل کا درجہ

پہلی دفعہ میلسی کو تحصیل کا درجہ 1848ء میں ملا تب یہ ضلع ملتان کا حصہ تھی۔ اس سے قبل میلسی کا علاقہ ریاست بہاولپور کا حصہ تھا . 1935ء میں میلسی کو سب ڈویژن کا درجہ دیا گیا لیکن سات سال بعد 1942ء میں درجہ کم کر کے دوبارہ تحصیل بنا دیا گیا۔

قیام پاکستان 1947ء کے بعد بدستور ملتان کی ہی ایک تحصیل کا درجہ حاصل رہا۔

1976ء میں جب وہاڑی کو ضلع کا درجہ دیا گیا تو میلسی کو وہاڑی کی تحصیل بنا دیا گیا۔

اورنگذیب دور میں بننے والی ملک واہن میں بادشاہی مسجد

حالیہ الیکشن میں ہونے والی حلقہ بندیوں میں تحصیل میلسی کے دیہی علاقہ کو 38 یونین کونسلز اور شہری حلقہ کو میونسپل کمیٹی کے 12 وارڈز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

محلِ وقوع

میلسی ملتان سے 90 کلومیٹر مشرق اور وہاڑی سے 42 کلومیٹر جانب جنوب اور بھاولپور سے 84 کلومیٹر جانب جنوب مشرق واقع ہے۔

میلسی کے جنوب میں کہروڑ پکا 33 کلومیٹر ھے ، مشرق میں حاصل پور، مغرب میں خانیوال، ملتان اور شمال میں وہاڑی شہر آباد ہے۔

آبادی

1998ء کی مردم شماری کے مطابق تحصیل میلسی کی کل آبادی سات لاکھ سے زائد تھی۔ ان میں 56 فیصد خواتین اور 44 فیصد مرد ہیں۔

میلسی میں 30 فیصد آبادی شہری علاقوں میں اور 70 فیصد آبادی دیہاتی علاقوں میں مقیم ہے۔

برادریاں

میلسی میں مختلف برادریوں میں آرائیں ، جٹ اور راجپوت ، بھٹی ، جوئیہ ، بھابھہ ، خاکوانی، کھچی، بھٹی، پٹھان کے لوگ آباد ہیں۔

سیاسی شخصیات

موجودہ ایم این اے اورسابق سپیکر پنجاب اسمبلی سیعداحمد خان منیس جن کے بیٹے عاصم خان منیس اور آصف خان منیس ھیں
موجودہ ایم پی اے میلسی جہانزیب خان کھچی جن کے والد احمد نواز خان عرف دلاور خان متعدد باز ایم این اے میلسی رہے
میاں محفوظ نواز آرائیں پاکستان مسلم لیگ ن کے ایم پی اے رھے۔ بعد میں مختلف ادوار میں ان کے بیٹے میاں زاہد نوازارائیں اور میاں ماجد نواز ارائیں بھی ایم پی اے رہے۔
ارشاد احمد خان میلسی کے ایم این اے بنے بعد میں انکے بیٹے محمود حیات عرف ٹوچی خاں ایم این اے رھے.
عطاء حسین خاکوانی رکن مغربی پاکستان اسمبلی، میاں ممتاز خان بھابھہ چار بار ایم این اے اور ایک بار ضلع کونسل کے ناظم رہے۔
غلام حیدر احمد خان کچھی میلسی کے پانچ بار ایم پی اے رہے۔
نور محمد خان بھابھہ سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اور تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے کوارڈی نیٹر بھی رہ چکے ہیں۔

ریلوے اسٹیشن

میلسی میں ریلوے اسٹیشن 1929ء میں بنایا گیا اور ریلوے اسٹیشن کے ساتھ ساتھ ڈسپنسری بنائی گئی جسے پھر ریلوے ہسپتال کا درجہ دے دیا گیا۔

صفحہ پر فراہم معلومات سےمتعلق اپنی رائے دیجئے

افرادنے ابھی تک موجودہ صفحہ پر اپنی رائے دی ہے