198

نثار کی مشہور جلیبیاں

میلسی: نثار کی مشہور جلیبیاں

عبدالصمد چوہدری

گرما گرم، خستہ خستہ، ذائقے اور لذت سے بھرپور جلیبیاں بنانا جہاں ایک محنت ہے وہیں اس میں معیاری اشیاء کا استعمال بھی اپنے روزگار سے ایمانداری کی مثال ہے۔

ڈی ایس پی چوک میلسی میں جلیبیاں بنانے والے نثار احمد ذائقے دار جیلیبیاں بنانے میں شہر بھر میں جانے جاتے ہیں۔

اکبر علی شہر سے 18 کلومیٹر دور نواحی علاقہ سرگانہ میں رہتے ہیں اور ایک نجی کمپنی کے ملازم ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں جلیبیوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔ ہفتہ میں تین سے چار بار “ہم اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ہمراہ جلیبیاں کھانے میلسی شہر کا رُخ کرتے ہیں۔ نہ صرف خود کھاتے ہیں بلکہ گھر والوں کے لیے بھی خریدتے ہیں۔”

محمد سلیم ایک سرکاری ادارے کے ملازم ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مٹھائی کی سوغات میں سب سے سستی مٹھائی جلیبی ہے، اگر اسکے میعار اور کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا ہوا ہو تو جیب پر خرچ بھی ہلکا رہتا ہے اور مزہ بھی دوبالا ہوجاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس موسم میں ہمارے دفتر میں چائے کے وقفہ کے وقت  نثار احمد کی گرما گرم جلیبیاں اکثر و بیشتر منگوائی جاتی ہیں کیونکہ چائے کے ساتھ گرما گرم جلیبیاں کھانے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔

والد صاحب نے معذوری کی حالت میں گھر بیٹھنے سے پرہیز کیا اور محنت کو کبھی عار نہیں سمجھا۔ ’’ذوالفقار‘‘

ان کا کہنا ہے کہ انہیں کام کے سلسلے میں پاکستان کے کئی شہروں میں جانا پڑتا ہے اور انہوں نے بہت سے شہروں سے جلیبیاں کھائی ہیں لیکن میلسی شہر میں فروخت ہونے والی نثار احمد کی جلیبیوں کا کوئی ثانی نہیں۔

2001ء میں نثار احمد نے چھ سو روپے کرایہ کی دکان لے کر جلیبیاں بنانے کا کام شروع کیا۔

نثار احمد تین سال قبل اپنے گھر میں گرنے کی وجہ سے معذور ہو گئے اور اب وہ بیٹھ نہیں سکتے۔ اب نثار احمد کے ساتھ ان کا بیٹا محمد ذوالفقار اس کام میں ہاتھ بٹاتے ہے۔

سجاگ سے بات کرتے ہوئے محمد ذوالفقار  نے بتایا کہ سولہ سال قبل جب میرے والد نے کام شروع کیا تھا تو اس وقت میری عمر تقریباً سترہ سال تھی۔

‘والد کے معذور ہو جانے کے بعد یہ کام میں نے سنبھال لیا ہے۔’

وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے میٹرک کے دوران ہی تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا تھا تاہم وہ اپنی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کو تعلیم دلوا رہے ہیں۔

“والد کی معذوری کے بعد میں نے اپنی دکان کے میعار اور کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا کیونکہ لوگ ہمیشہ میعار اور کوالٹی کو سراہتے ہیں اور اسی وجہ سے ہماری بنائے جانے والی جلیبیاں شہر بھر میں مشہور ہیں۔”

’کوالٹی، ذائقہ اور ریٹ مناسب ہونے کی وجہ سے لوگوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔‘

ہم روزانہ تیس سے پینتیس کلو کے قریب جلیبیاں فروخت  کرتے ہیں تاہم اگر کسی سکول، آفس یا کسی شادی کی تقریب سے آرڈر آجائے تو ہمیں معمول سے ہٹ کر سامان زیادہ تیار کرنا پڑتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کی دکان پر پانچ ملازم بھی کام کر رہے ہیں جن کو چھ ہزار روپے ماہانہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صبح گیارہ بجے سے رات گئے تک دکان کھلی رہتی ہے اور وہ سال میں صرف تہوار کے دنوں میں ہی چھٹی کرتے ہیں۔

ذوالفقار نے بتایا کہ جلیبی بنانے کے لئے میدہ، چینی، الائچی، الومینیم اور میٹھا سوڈا استعمال کیا جاتا ہے۔ پانی کو گرم کر کے میدے میں مکس کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

دس سے  پندرہ منٹ میدہ اور پانی کو مکس کرنے کے بعد پھینٹا جاتا ہے۔ بھات کھل جانے کے بعد میدے میں ایلومینیم اور میٹھا سوڈا ڈالا جاتا ہے تاکہ جلیبی خستہ تیار ہو۔ دوسری جانب شیرہ تیار کرنے کیلئے  چینی، الائچی اور پانی مکس کر کے پکایا جاتا ہے۔

شیرا تیار ہونے کے بعد گھی گرم کر کے میدہ کو برتن کی مدد سے کپڑے میں ڈالا جاتا ہے جس میں ایک چھوٹا سا سوراخ کیا ہوتا ہے۔ گرم گھی میں جلیبی بنائی جاتی ہے۔ جلیبی براؤن ہونے تک پکائی جاتی ہے پھر گرم شیرے میں ڈبو کر نکالی جاتی ہے اور جھرنے پر رکھدی جاتی ہے جھرنے پر اضافی شیرہ نکل جاتا ہے اور جلیبی تیار ہو جاتی ہے۔

صفحہ پر فراہم معلومات سےمتعلق اپنی رائے دیجئے

افرادنے ابھی تک موجودہ صفحہ پر اپنی رائے دی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں