172

سکولوں کو اپ گریڈ کر دیا جائے تو۔۔۔

اگر سکولوں کو اپ گریڈ کر دیا جائے تو۔۔۔

عبدالصمد چوہدری

نواحی علاقے دوکوٹہ میں دو ہائی سکول موجود ہیں

نواحی علاقے دوکوٹہ میں دو ہائی سکول موجود ہیں

علاقے میں کوئی قریب ہائر سکینڈری سکول نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو میٹرک تک ہی تعلیم حاصل کروا پاتے ہیں۔ دوسری طرف صاحب حثیت لوگ اپنے بچوں کو شہر کے تعلیمی اداروں میں بھیج کر ان کی تعلیم مکمل کروا لیتے ہیں۔

یہ کہنا ہے میلسی کے نواحی علاقے دوکوٹہ کے رہائشی سماجی کارکن محمد اکرم کا۔

میلسی سے 18 کلومیٹر ملتان روڈ پر دوکوٹہ کا قصبہ موجود ہے جہاں کی آبادی 50 ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔

سنہ 50ء کی دہائی میں دوکوٹہ میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول اور سنہ 80ء کی دہائی میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول 145 ڈبلیو بی میں قائم کیے گئے جو تاحال ہائر سکینڈری سکول کا درجہ حاصل نہ کر سکے۔

محمد اکرم نے سجاگ کو بتایا کہ کہ اس وقت بوائز ہائی سکول میں تقریباً 1100 اور گرلز ہائی سکول میں پانچ سو سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دوکوٹہ میں ہائر سکینڈری سکولز نہ ہونے کی وجہ سے اڑھائی سے تین سو طلبہ تعلیم کے حصول کے لیے دوکوٹہ سے تقریباً 20 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے میلسی یا ٹبہ سلطان پور جاتے ہیں۔

“طلبہ کو وقت سے پہلے گھروں سے نکلنا پڑتا ہے، طالب علم میلسی یا ٹبہ سلطان پور جانے کے لیے بس کی چھتوں اور دروازوں سے لٹک کر خطرناک طریقوں سے سفر کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔”

دوکوٹہ کے 60 فیصد سے زائد طلبہ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد انٹرمیڈیٹ کی تعلیم اس لیے جاری نہیں رکھ سکتے کہ قریب ہائر سکینڈری کی تعلیم دینے والا کوئی ادارہ موجود نہیں۔ “محمد عرفان”

ان کا کہنا ہے کہ علاقے کی عوام کے ووٹوں سے اسمبلی تک پہنچنے والے نمائندے علاقے بچوں کی تعلیم پر کوئی توجہ نہیں دے رہے۔

محمد عرفان بھی دوکوٹہ کے رہائشی ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ پچاس ہزار سے زائد آبادی والے علاقے کے سکولوں کو اپ گریڈ نہ کرنا دوکوٹہ کے رہائیشوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اہل علاقہ نے کئی بار ووٹ لے کر اسمبلیوں میں جانے والے نمائندوں سمیت محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کو کئی بار آگاہ کیا کہ علاقے میں ہائر سکینڈری سکول کی ضرورت ہے، لیکن کوئی بھی دوکوٹہ کے طلبہ کے لیے تعلیمی اقدامات کرتا نظر نہیں آ رہا۔

عرفان نے بتایا کہ دوکوٹہ کے 60 فیصد سے زائد طلبہ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی تعلیم صرف اس لیے جاری نہیں رکھ سکتے کہ قریب ہائر سکینڈری تک بھی تعلیم دینے والا کوئی ادارہ موجود نہیں۔

دوکوٹہ کے رہائشی شاہد حنیف بتاتے ہیں کہ انہوں نے سنہ 2014ء میں ہائی سکول دوکوٹہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

“میٹرک کے بعد اس لیے تعلیم حاصل نہ کر سکا، کہ باہر جا کر تعلیم حاصل کرنے کے اخرجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا، اب میں والد صاحب کے ساتھ کھیتی باڑی کرتا ہوں۔”

طلبہ کو میلسی یا ٹبہ سلطان پور جانے کے لیے بس کی چھت پر سفر کرنا پڑتا ہے

طلبہ کو میلسی یا ٹبہ سلطان پور جانے کے لیے بس کی چھت پر سفر کرنا پڑتا ہے

انہوں نے بتایا کہ ان کی طرح ان کے کئی کلاس فیلوز اور بھی ہیں جنہیں میٹرک کے بعد اپنی تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔

سکولوں کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے لکھاری نے ای ڈی او ایجوکیشن وہاڑی شوکت علی طاہر سے رابطہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ گورنمنٹ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت تمام اضلاع کو سکیمیں دیتی ہے تاہم گزشتہ دو سال سے کوئی سکیم نہیں آئی۔

“ان سکیموں کے تحت سکولوں کو پرائمری سے مڈل، مڈل سے ہائی اور ہائی سے ہائیر سکینڈری سکول کا درجہ دیا جاتا ہے۔”

ای ڈی او کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ضلعی حکومت کو گزشتہ سال کچھ سکیمیں دی گئی تھی۔

“ان سکمیوں کے تحت گزشتہ سال سنہ 2015ء میں ضلع کے آٹھ سکول اور رواں سال 35 سکول اپ گریڈ کیے جانے ہیں تاہم ان کے لیے فنڈز نہیں آ رہے۔”

ان کا کہنا ہے کہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے فی الوقت دوکوٹہ کے سکولوں کو اپ گریڈ نہیں کیا جا سکتا، جب حکومت کی جانب سے سکول اپ گریڈیشن کے فنڈز آ گئے تو ان سکولوں کو بھی اپ گریڈ کر دیا جائے گا۔

حلقہ پی پی 238 کے ایم پی اے آصف سعید منیس سے سکول کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے بارہا رابطہ کیا گیا لیکن ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔

صفحہ پر فراہم معلومات سےمتعلق اپنی رائے دیجئے

افرادنے ابھی تک موجودہ صفحہ پر اپنی رائے دی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں