112

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میلسی میں اسپیشلسٹ ڈاکٹرزکی کمی

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں اسپیشلسٹ ڈاکٹرز نہ ملنے کی وجہ سے مجھے اپنے چیک اپ کے لیے ملتان یا بہاولپور ہسپتال جانا پڑتا ہے جہاں اتنے پیسوں کی ادویات نہیں ہوتیں جتنا میرا آنے جانے کا کرایہ لگ جاتا ہے۔ “محمد جمیل”محمد جمیل دل کے مریض ہیں اور وہاڑی کی تحصیل میلسی میں رہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ انہیں اپنے علاج کے لیے میلسی کے ہسپتال کی بجائے دوسرے شہروں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔تقریباً 10 لاکھ کی آبادی والے تحصیل میلسی کے ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں میڈیکل سٹاف سمیت کئی سیٹوں پر عملہ ہی موجود نہیں، جس وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔میلسی کا تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سنہ 1975ء میں بنایا گیا تو اس وقت ہسپتال 60 بیڈز پر مشتمل تھا۔ سنہ 2002ء میں مزید 90 بیڈز کا اضافہ کر کے ہسپتال میں بیڈز کی تعداد 150 کر دی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ شہری صحت کی سہولیات سے فائدہ حاصل کر سکیں۔ہسپتال میں روزانہ آنے والے مریضوں کی تعداد 11 سو سے زائد ہے۔چوہدری حسن محمود ایڈووکیٹ سماجی کارکن اور ہیومن رائٹس پاکستان کے چیف کوارڈینیٹر پنجاب ہیں۔انہوں نے بتایا کہ میلسی کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں شہری لوگوں کے علاوہ دیہی آبادیوں کے لوگ بھی علاج کے لیے آتے ہیں۔سٹاف کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کئی بار اشتہارات دیئے گئے ہیں لیکن کوئی بھی ڈاکٹر میلسی ہسپتال میں ڈیوٹی کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔”ایم ایس محمد فاضل””ڈاکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز سے آنے والے مریض لائنوں میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں جب مریض کی باری آتی ہے تو ڈاکٹر کا ڈیوٹی ٹائم ختم ہو جانے سے مریض پرائیویٹ ہسپتالز میں مہنگے داموں علاج کروانے پر مجبور ہیں۔”ان کے مطابق ہسپتال میں صرف ایک اسپشلیسٹ، ایک سرجن اور چار میڈیکل آفیسرز ڈاکٹرز ڈیوٹی دے رہے ہیں جبکہ 17 اسپشلیسٹ، 11 میڈیکل آفیسرز اور دو وومین میڈیکل آفیسرز کی سیٹیں خالی موجود ہیں۔چوہدری حسن محمود کے مطابق سرجن ڈاکٹر ہفتے میں صرف دو دن میلسی اور چار دن وہاڑی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں کام کرتے ہیں جبکہ سرجن ڈاکٹر کے آرڈر ٹی ایچ کیو ہسپتال میلسی کے ہیں۔”ڈاکٹر نے اپنے اثرورسوخ استعمال کر کے ڈیوٹی اپنی مرضی سے لگوائی ہوئی ہے۔”اللہ بخش میلسی کے نواحی علاقے آرائیں واہن کے رہائشی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ گندم کی کٹائی کے موسم میں ہر طرف گرد اڑتی دکھائی دیتی ہے جس وجہ سے انہیں الرجی ہونے سے سانس بند ہو جاتی ہے۔”دو بار میلسی ہسپتال میں چیک اپ کے لیے گیا ہوں لیکن ڈاکٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے مجھے ملتان ہسپتال جانا پڑا ہے۔”تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں تعینات سرجن ڈاکٹر عنایت کہتے ہیں کہ وہ روزانہ 50 کلومیٹر سفر کر کے وہاڑی سے میلسی آتے ہیں، اس کی وجہ میلسی ہسپتال میں رہائش کے لیے انتظام موجود نہ ہونا ہے۔
image could not load

صفحہ پر فراہم معلومات سےمتعلق اپنی رائے دیجئے

افرادنے ابھی تک موجودہ صفحہ پر اپنی رائے دی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں