128

ضلع کونسل کا چیئرمین کون ہو گا؟

ضلع وہاڑی میں بلدیاتی انتخابات ہوئے تقریباً دو ماہ ہونے کو ہیں تاہم تاحال ضلع کونسل کے چیئرمین کے لیے واضح طور پر کسی کا نام سامنے نہیں آ سکا۔

پنجاب میں پہلے مرحلے کے دوران 31 اکتوبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے ضلع وہاڑی کو نئی حلقہ بندیوں کے بعد 105 یونین کونسلز میں تقسیم کیا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) ضلع کی بڑی سیاسی جماعت ہے مگر اس میں دھڑے بندیوں اور اندرونی انتشار کی وجہ سے کسی ایک امیدوار کے نام پر اتفاق نہ ہو سکا اور ضلع کی تینوں تحصیلوں سے متعدد امیدوار سامنے آ چکے ہیں۔

نئی حلقہ بندیوں کے بعد تحصیل وہاڑی میں 33 تحصیل بورے والہ میں 34 اور میلسی میں 38 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔

ضلع کونسل وہاڑی کی 105 یونین کونسلز میں اگر پارٹی پوزیشن کا جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ ن نے 34 پاکستان تحریک انصاف نے 18 پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک اور پاکستان کسان اتحاد نے دو نشستیں حاصل کی۔

یونین کونسل کی 48 نشستوں پر آزاد امیدوار منتخب ہوئے اور ایک نشست پر آزاد امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے۔

انتخابات کے بعد اب ضلع کونسل کے چیئرمین کے انتخابات کے لیے مختلف سیاسی گروپوں میں جوڑ توڑ عروج پر ہیں۔

مسلم لیگ ن کی طرف سے اپنا امیدوار نامزد کیے جانے کے بعد ہی پی ٹی آئی اپنا امیدوار نامزد کرے گی۔’پی ٹی آئی رہنما آفتاب احمد‘

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت تحصیل وہاڑی سے ایم این اے طاہر اقبال چودھری کے بھائی چیئرمین یونین کونسل زاہد اقبال چودھری، تحصیل بورے والا سے سابق صوبائی وزیر پیر غلام محی الدین چشتی کے بیٹے چیئرمین یونین کونسل مطعیب چشتی اور تحصیل میلسی سے سابق سپیکر پنجاب اسمبلی سعید احمد خان منیس کے صاحبزادے سابق تحصیل ناظم عاصم سعید منیس چیئرمین ضلع کونسل کے امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں۔

اب تک سامنے آنے والے تینوں امیدواروں کا تعلق مسلم لیگ (ن) کے مختلف گروپوں سے ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے ابھی تک چیئرمین کے لیے کسی امیدوار کو نامزد نہیں کیا۔

ضلع وہاڑی کی 29 سالہ تاریخ میں ضلعی چیئرمین یا ضلعی نظامت پر سوائے میاں زاہد دولتانہ کے کوئی بھی آج تک منتخب نہیں ہوا۔

ضلع کونسل کے چیئرمین اور ضلع ناظم کے عہدوں پر بورے والا اور میلسی سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کا ہی قبضہ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک طویل عرصے کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رہنما زاہد اقبال چودھری چیئرمین ضلع کونسل کے لیے سامنے آئے ہیں جن کا تعلق تحصیل وہاڑی سے ہے۔

اگر سب سے زیادہ لیڈ سے کامیاب ہونے والے امیدواروں کو دیکھا جائے تو پہلے تین امیدواروں میں عاصم سیعد منیس، محمد عظمت اللہ اور محمد خالد بودلہ شامل ہیں۔

image could not load

اگر برادری کو دیکھ کر ضلع کونسل کا چیئرمین بنانا چاہیں تو جٹ برادری کی اکثریت نظر آتی ہے۔

ضلع وہاڑی کی 105 یونین کونسلز میں جن برادریوں سے تعلق رکھنے والے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں ان میں جٹ برادری کے 19 امیدوار، آرائیں 17، راجپوت نو، پٹھان آٹھ، کھچی چھ، گجر پانچ، دولتانہ، لنگڑیال اور شاہ سید کے چار چار، اعوان، چشتی، سگو، مترو اور بھابھہ برادریوں کے دو دو امیدوار ہیں۔

یونین کونسل نمبر 33 کے چیئرمین زاہد اقبال چودھری کہتے ہیں کہ انہیں ضلع بھر کے چیئرمین یونین کونسلز کی حمایت حاصل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چونکہ ان کا تعلق ضلعی ہیڈ کوارٹر وہاڑی سے ہے اس لیے انہیں حمایت مل رہی ہے۔

چیئرمین یونین کونسل نمبر 71 اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سید الطاف حسین شاہ کہتے ہیں کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ضلع کی عوام نے مسلم لیگ (ن) پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سابق تحصیل ناظم میلسی اور چیئرمین یونین کونسل نمبر 70 کے عاصم سعید خان منیس اس وقت ضلع کونسل کے چیئرمین کے لیے مضبوط امیدوار ہیں جن کو ضلع کی تینوں تحصیلوں سے بھرپور حمایت حاصل ہے۔

الطاف حسین شاہ کہتے ہیں کہ بلدیاتی اداروں کے فعال ہونے کے بعد ضلع میں ترقی کا رُکا ہوا سفر دوبارہ شروع ہو جائے گا کیونکہ مقامی نمائندے ہر وقت عوام کی پہنچ میں ہوتے ہیں اور انہیں مقامی مسائل کا بھی بخوبی علم ہوتا ہے اس لیے عوام کی بلدیاتی نظام میں زیادہ دلچسپی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ضلع کونسل وہاڑی کے چیئرمین کے لیے مسلم لیگ (ن) کو واضح اکثریت حاصل ہے لہٰذا عاصم سعید منیس ہی ضلع کونسل کے چیئرمین ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عاصم سعید خاں منیس ضلع کونسل کے چیئرمین منتخب ہو کر نہ صرف تحصیل میلسی بلکہ پورے ضلعے کی ترقی کے لیے کام کریں گے کیونکہ بحثییت تحصیل ناظم میلسی انہوں نے مثالی کام کروائے تھے۔

سابق ایم این اے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما آفتاب احمد خان کھچی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی ضلع کونسل کے چیئرمین کے انتخاب میں بھرپور طریقے سے حصہ لے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ ضلع میں 18 یونین کونسلوں میں پی ٹی آئی کے چیئرمین منتخب ہوئے ہیں اور آزاد حیثیت سے منتخب ہونے والے چیئرمینوں کی اکثریت کا رجحان بھی پی ٹی آئی کی جانب ہے۔

’ان کی جماعت مسلم لیگ ن کی طرف سے اپنا امیدوار نامزد کیے جانے کی منتظر ہے جس کے بعد پی ٹی آئی اپنا امیدوار نامزد کرے گی۔

صفحہ پر فراہم معلومات سےمتعلق اپنی رائے دیجئے

افرادنے ابھی تک موجودہ صفحہ پر اپنی رائے دی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں