111

تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال میلسی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والا کارڈیالوجی وارڈ ابھی تک فنکشنل نہیں ہو سکا۔

تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال میلسی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والا کارڈیالوجی وارڈ ابھی تک فنکشنل نہیں ہو سکا۔
عمارت کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد وارڈ کو تالے لگا کر بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے دل کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو دوسرے شہروں میں جانا پڑتا ہے۔
کارڈیالوجی وارڈ کے لیے ایم این اے سعید احمد خان منیس نے گرانٹ جاری کی تھی۔
کارڈیالوجی وارڈ میں مشینری اور دوسرے آلات آ چکے ہیں لیکن ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے دل کے وارڈ کو فنکشنل نہیں کیا جا سکا۔
سماجی رہنما سجاد احمد سعیدی نے سجاگ کو بتایا کہ کروڑوں روپے کی مالیت سے تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال میں دل کے امراض کے لئے کارڈیالوجی کا الگ وارڈ بنایا گیا ہے جس میں کروڑوں روپے کی مشینری بھی آگئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وارڈ کو فنکشنل نہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، دل کے مریضوں کو علاج کے لیے ملتان اور بہاول پور جانا پڑتا ہے۔
اس سلسلے میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال میلسی کے ایم ایس ڈاکٹر جہانگیر شہزادہ نے سجاگ کو بتایا ہے کہ کارڈیالوجی وارڈ کی عمارت تو مکمل ہو گئی ہے لیکن ڈاکٹر تعینات نہ ہونے کی وجہ سے وارڈ بند ہے۔
‘محکمہ فنانس کو ڈاکٹروں کی تنخواہوں کے لیے بجٹ کے حصول کی خاطر لیٹر لکھ دیا جیسے ہی منظوری ہوئی ڈاکٹر تعینات کر دیے جائیں گے۔’
انہوں نے مزید بتایا کہ وارڈ کے لیے کل 29 اسامیاں پر کی جائیں گی جن میں درجہ چہارم کے ملازمین، نرسیں اور ڈاکٹر شامل ہیں۔

صفحہ پر فراہم معلومات سےمتعلق اپنی رائے دیجئے

افرادنے ابھی تک موجودہ صفحہ پر اپنی رائے دی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں